کراچی کے صنعتی علاقوں کے لیے 9 ارب روپے کی منظوری، منصوبوں کی تکمیل کا ہدف 6 ماہ

ہفتہ 20 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سندھ کے وزیرِاعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کراچی کے صنعتی علاقوں میں سڑکوں اور متعلقہ بنیادی ڈھانچے کی فوری مرمت اور بحالی کے لیے 9 ارب 28 کروڑ 20 لاکھ روپے کی منظوری دے دی۔

یہ بھی پڑھیں:سندھ کابینہ نے متعدد ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز کی منظوری دے دی

یہ منظوری وزیرِاعلیٰ کی زیرِصدارت کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی)، سندھ انڈسٹریل ٹریڈنگ اسٹیٹ (سائٹ)، بن قاسم ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (بی کیو اے ٹی آئی) اور لانڈھی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (لاٹی) کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس میں دی گئی جس میں شہر کے تمام صنعتی زونز میں بنیادی انفرااسٹرکچر کی ترقی اور بحالی کے لیے پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا گیا۔

وزیرِاعلیٰ نے مختلف صنعتی علاقوں کے لیے فنڈز کی منظوری دیتے ہوئے بتایا کہ سائٹ ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے لیے 2 ارب روپے، سائٹ سپر ہائی وے کے دونوں مراحل کے لیے 70 کروڑ روپے، نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے لیے 72 کروڑ 17 لاکھ 40 ہزار روپے، ایف بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے لیے 86 کروڑ 5 لاکھ 50 ہزار روپے، لانڈھی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے لیے 2 ارب روپے، کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن سمیت) کے لیے 2 ارب روپے اور بن قاسم ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

اس موقعے پر وزیرِاعلیٰ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی کام پیر سے شروع کیے جائیں اور 6 ماہ کے اندر مکمل کیے جائیں تاکہ صنعتی علاقوں کے لیے اسی نوعیت کا ایک اور ترقیاتی پیکیج دیا جا سکے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ اس منصوبے کے لیے فنڈنگ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کے تحت وصول کیے جانے والے انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس سے فراہم کی جائے گی جس کی بڑی رقم کراچی کے صنعتی علاقوں سے جمع کی گئی ہے۔

اجلاس کو پہلے مرحلے کے 9 ارب 28 کروڑ 20 لاکھ روپے کے منصوبے پر بریفنگ دی گئی جسے کمشنر کراچی کی قیادت میں وسیع مشاورت کے بعد وزیراعلیٰ کی ہدایات کے مطابق منصفانہ اور ضرورت پر مبنی بنیادوں پر ترتیب دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیے: آئی جی سندھ کی زیر صدارت اجلاس، فیس لیس ای چالان کے نفاذ سے متعلق اہم فیصلے

صنعتکاروں نے اس بات پر زور دیا کہ ماضی کی روایت کے مطابق منصوبے پر عملدرآمد اور فنڈز کی فراہمی گرانٹ اِن ایڈ کے ذریعے کی جائے، نہ کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کے تحت، تاکہ کام تیزی سے مکمل ہو سکے۔

وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کراچی کے صنعتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ بہتر انفرااسٹرکچر پیداواری صلاحیت، برآمدات اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے نہایت ضروری ہے۔

اجلاس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ صنعتی انفرااسٹرکچر کی بروقت بحالی سے لاجسٹکس میں بہتری آئے گی، کاروباری اخراجات کم ہوں گے اور کراچی میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا۔

مزید پڑھیں: این ڈی آر ایم ایف کے 6.5 ارب روپے کے منصوبے مکمل، قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ

وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اس اجلاس میں صوبائی وزیر صنعت جام اکرام دھاریجو، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، زبیر موتی والا، زاہد سعید، محمد اکرام، زبیر چھایا، فیصل معیز، ریان اشرف، زین بشیر، احمد عظیم، شکیل اشرف، شیخ تحسین سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

موجودہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں ماضی جیسی کشیدگی نہیں، نظام مشترکہ انداز میں چل رہا ہے، عامر الیاس رانا

امریکا کے ایران پر  نئے فضائی حملے ، متعدد مقامات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور

شارجہ سے کراچی آنے والا پاکستانی کارگو کمپنی کا طیارہ لاپتا، تلاش کا عمل شروع

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ترکیہ پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا اعلان

ویڈیو

موجودہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں ماضی جیسی کشیدگی نہیں، نظام مشترکہ انداز میں چل رہا ہے، عامر الیاس رانا

خیبرپختونخوا حکومت کی اپنے لیے مراعات، نئے قانون میں خاص کیا ہے؟

خیبر پختونخوا اسمبلی ایک دہائی بعد بھی مکمل پیپر لیس کیوں نہ بن سکی؟

کالم / تجزیہ

سندھ طاس: بھارت کی اسٹریٹیجک مس کیلکولیشن

فیفا فٹبال میں چھپی صدی کی کہانی

ریڈیو کا روشن باب: بھائی لال اور اوم پرکاش