قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کی سال 2025 میں کارکردگی کیسی رہی؟

منگل 23 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قومی و صوبائی اسمبلیوں کو ملک بھر میں کی جانے والی قانون سازی کے لیے بنایا گیا تھا، آئین میں ترمیم بھی اسی اسمبلی کے ذریعے ہی ہوتی ہے جبکہ عام قانون سازی بل یا ایکٹ کے ذریعے کر لی جاتی ہے اور سادہ اکثریت سے منظوری کے بعد بل قانون کا حصہ بن جاتا ہے۔

وی نیوز نے قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کا جائزہ لیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ کون سے اسمبلی نے سال بھر میں کتنی قانون سازی کی۔

سال 2025 میں قومی اسمبلی نے 55 بل، 8 آرڈیننس، سینیٹ نے 75 بل منظور کیے، صوبائی اسمبلیوں میں سب سے زیادہ پنجاب اسمبلی نے 108 بل منظور کیے، خیبر پختونخوا اسمبلی نے 26 بل، سندھ اسمبلی نے 7 بل اور 23 ایکٹ جبکہ بلوچستان اسمبلی نے اس سال 24 ایکٹ منظور کیے۔

قومی اسمبلی سے رواں سال مجموعی طور پر 55 بل منظور کیے گئے ان میں 42 حکومتی بل اور 13 بل پرائیویٹ ممبر بل شامل ہیں جبکہ موجودہ اسمبلی نے 22 ماہ میں مجموعی طور پر اب تک اس اسمبلی نے 71 حکومتی بل اور 20 پرائیویٹ ممبر بل منظور کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: قانون سازی پارلیمان کا استحقاق، ججز کے استعفے غیر آئینی ہیں، بیرسٹر عقیل

رواں سال منظور کیے گئے اہم بلوں میں اسلام آباد چائلد میرج بل، ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات کا بل، دانش اسکول بل، پاکستان آرمی، پاکستان ایئر فورس اور پاکستان نیوی ترمیمی بل، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل، سول سرونٹ بل، سول کورٹس بل اور ڈیجیٹل نیشن پاکستان بل شامل ہیں۔

اس سال 2 مرتبہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس طلب کیے گئے اور ان میں مجموعی طور پر 7 بل منظور کیے گئے۔ مشترکہ اجلاس سے منظور کیے گئے اہم بلوں میں امپورٹ ایکسپورٹ بل اور اقلیتی کے حقوق سے متعلق بل شامل ہیں۔

قومی اسمبلی میں سال 2025 کے دوران 8 آرڈیننس پیش کیے گئے جن میں انکم ٹیکس، سوسائٹی رجسٹریشن، سی ڈی اے ترمیمی آرڈیننس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری آرڈیننس شامل ہیں۔

رواں سال سینیٹ سے بھی بڑی تعداد میں بل منظور کرائے گئے۔ اس سال مجموعی طور پر سینیٹ سے 75 بل منظور کیے گئے ہیں جن میں 37 بل پرائیویٹ ممبر کے تھے جبکہ 38 حکومتی بل شامل ہیں۔

سینیٹ سے منظور کیے گئے اہم بلوں میں اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات کا بل، نیشنل اسمبلی ملازمین کی تنخواہوں کا بل، سپیشل ٹیکنالوجی زونز بل، سی پیک اتھارٹی ترمیمی بل، انسداد دہشتگری بل، قانون شہادت بل، پاکستان آرمی، پاکستان ایئر فورس اور پاکستان نیوی ترمیمی بل شامل ہیں۔

پنجاب

لاہور سے وی نیوز کے نمائندے عارف ملک کے مطابق پنجاب اسمبلی میں رواں سال سب سے زیادہ 109 بل منظور کیے گئے ہیں۔

ان میں سے سب سے زیادہ اپریل کے ماہ میں 18 بل منظور کیے گئے، مختلف شعبوں جیسے تعلیم، صحت، مالیات، قانون نافذ کرنے اور مقامی حکومت سے متعلق بل منظور کیے گئے ہیں، ان میں پرائیویٹ ممبر اور حکومتی بل شامل ہیں۔

علاوہ ازیں سال بھر میں 76 قراردادیں اسمبلی سے منظور کی گئی ہیں۔ پنجاب اسمبلی کے دوسرے سال میں اب تک 15 سیشن ہو چکے ہیں جو کہ 82 دن تک جاری رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: علیم خان کے ساتھ تلخی کیوں ہوئی؟ سینیٹر پلوشہ خان نے اصل وجہ بتا دی

خیبرپختونخوا

پشاور سے وی نیوز کے نمائندے سراج الدین کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی سے اس سال مجموعی طور پر 26 بل منظور کیے گئے ہیں۔

حیران کن طور پر صوبائی اسمبلی میں اگست کے بعد نہ تو کوئی بل پیش کیا گیا نہ ہی منظور کیا گیا جبکہ سال کے ایک دن 11 جون کو خیبرپختونخوا اسمبلی سے 6 بل منظور کیے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ سال بھر میں خیبرپختونخوا اسمبلی نے مجموعی طور پر 29 ایکٹ بھی منظور کیے ہیں۔

سندھ

کراچی سے وی نیوز کے نمائندے وقاص خان کے مطابق سندھ اسمبلی سے رواں سال 2025 میں 7 بل اور 23 ایکٹ پاس کیے گئے۔

پاس کیے گئے اہم بلز میں  سندھ اسمبلی کے اراکین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کا بل، سیکنڈری ایجوکیشن بل، سندھ ایگریکلچر ٹیکس بل، دی سندھ کرمنل پروسیکیوشن سروس ترمیمی ایکٹ، دی سندھ موٹر وہیکلز ٹیکسیشن ایکٹ، شہید بے نظیر بھٹو انسٹیٹیوٹ فار ڈیموکریسی اینڈ فیڈرل ازم ایکٹ، پروونشل موٹر وہیکلز (ترمیمی) ایکٹ، سندھ سول کورٹس ایکٹ، سندھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ترمیمی ایکٹ،  سندھ سنٹر فار ایکسیلنس آن کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریم ازم ایکٹ، آغا خان پراپرٹیز ایکٹ، سندھ فنانس ایکٹ، سندھ کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹینسز (ترمیمی) ایکٹ ، اینٹی ٹیررازم (سندھ ترمیمی) ایکٹ،  شامل ہیں۔

بلوچستان

کوئٹہ سے وی نیوز کے نمائندے غالب نہاد کے مطابق  بلوچستان اسمبلی نے سال 2025 کے دوران 24 ایکٹ ایوان سے منظور کیے۔

3 فروری کو بلوچستان سول سرونٹ ایکٹ، اسی روز بلوچستان ٹیکس آن لینڈ اینڈ ایگریکلچر اکیٹ، 7 فروری کو بلوچستان زکوٰۃ اینڈ اشر ایکٹ اقر بلوچستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ اور ریگولیشن ایکٹ، 12 فروری کو بلوچستان سول وکٹم اف ٹیررازم ایکٹ، 12 مارچ بلوچستان مائن اینڈ منرل ایکٹ، 10 مارچ کو بلوچستان موٹر وہیکل ایکٹ، 25 مئی کو غلام فاروق میموریل ہسپتال بلیدہ ایکٹ، 3 جون کو بلوچستان ایگریکلچر، سولرائزیشن اینڈ الیکٹریکل شفٹ پریونشن ایکٹ،  4 جون کو اینٹی ٹیررازم ایکٹ، 25 جون کو بلوچستان فائنانس ایکٹ منظورکیا گیا۔

صوبائی اسمبلی سے 28 جولائی کو بلوچستان مٹرنل اینڈ پیٹرنل ڈیتھ سرویلنس اینڈ رسپانس ایکٹ، بلوچستان انسٹیٹیوٹ اف چائلڈ ہیلتھ سروسز کوئٹہ ایکٹ،  بلوچستان انسٹیٹیوشن ہیلتھ ریفارمز کا ایکٹ، بلوچستان پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمنٹ اف وومن ایٹ ورک پلیس ایکٹ منظور کیا گیا۔

علاوہ ازیں 2 ستمبر کو شیخ محمد بن زید الناہیان کارڈیالوجی ہسپتال ایکٹ،  8 ستمبر کو بلوچستان ریونیو ایکٹ، بلوچستان انسٹیٹیوٹ اف کارڈیو ویسکولر ڈزیزز ایکٹ، 10 ستمبر کو بلوچستان لیویز فورس ایکٹ، بلوچستان فار زک سائنس ایجنسی ایکٹ، 2 اکتوبر پروونشل اسمبلی پریولجز ایکٹ، 14 نومبر کو چائلڈ میرج ایکٹ، 19 نومبر کو سیف اینڈ انوائرمنٹلی ساؤنڈ ری سائیکلنگ اف شپ ایکٹ منظور کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp