نجکاری کے بعد پی آئی اے کی بہتری کے لیے کیا کچھ سوچا گیا ہے؟ عارف حبیب نے تمام تفصیلات بتادیں

منگل 30 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز یعنی پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز خریدنے والے کنسورشیم کے سربراہ عارف حبیب نے واضح کیا ہے کہ پی آئی اے اپنی برسوں پرانی شناخت برقراررکھتے ہوئے اصل نام کے ساتھ ہی کام جاری رکھے گی۔

انڈپینڈنٹ اردو کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ نجکاری کی شرائط کے مطابق ایئرلائن کا نام تبدیل نہیں کیا جا سکتا، تاہم سروسز اور مجموعی معیار میں بہتری لانا نئی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے میں بہت زیادہ پوٹینشل، 100 فیصد شیئرز خریدنا چاہتے تھے: عارف حبیب

عارف حبیب نے بتایا کہ پی آئی اے کی موجودہ برانڈ شناخت کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جائے گی، تاہم اگر تکنیکی مشاورت اور بہتری کی گنجائش موجود ہوئی تو یونیفارمز، پیشکش کا انداز اور مجموعی شکل و صورت میں مثبت تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں تاکہ ایئرلائن زیادہ جدید اور بہتر نظر آئے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیک اوور کے بعد مسافروں کو واضح فرق محسوس ہو گا، چیک اِن کاؤنٹرز، کیبن، نشستوں اور طیاروں میں موجود انٹرٹینمنٹ سہولیات کو بہتر بنایا جائے گا، اس کے ساتھ ساتھ عملے کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ مسافروں کے ساتھ رویہ اور سروس کا معیار عالمی معیار کے مطابق ہو۔

طیاروں کے بیڑے سے متعلق بات کرتے ہوئے عارف حبیب نے کہا کہ آئندہ 3 سے 4 سال کے دوران پی آئی اے کے بیڑے میں تقریباً 19 نئے طیارے شامل کیے جائیں گے، جبکہ اس مدت کے بعد مزید توسیع کے ذریعے مجموعی تعداد کو 64 طیاروں تک لے جانے کا منصوبہ ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر تقریباً 25 نئے طیارے شامل کیے جائیں گے۔

مزید پڑھیں: پی آئی اے کی نجکاری سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا، وزیراعظم شہباز شریف

ان کے مطابق بیڑے میں نیرو باڈی اور وائڈ باڈی دونوں اقسام کے طیارے شامل ہوں گے، جن میں ایئر بس اے 320 اور بوئنگ 777 جیسے طیارے بھی شامل ہیں۔ قلیل فاصلے اور علاقائی روٹس کے لیے زیادہ تر نیرو باڈی طیارے استعمال کیے جائیں گے، جبکہ یورپ، کینیڈا اور امریکا جیسے طویل فاصلے کے بین الاقوامی روٹس کے لیے وائڈ باڈی طیارے ناگزیر ہوں گے۔

عارف حبیب کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد پی آئی اے کو ایک بار پھر مستحکم، قابلِ اعتماد اور مسافروں کی پسندیدہ ایئرلائن بنانا ہے تاکہ عوام کا کھویا ہوا اعتماد دوبارہ بحال کیا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟