بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے ٹی 20 ورلڈ کپ کے میچز بھارت میں کھیلنے سے انکار کر دیا ہے اور آج اپنی ٹیم کے تحفظات سے متعلق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو آگاہ کرے گا۔
ذرائع کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بنگلادیش کی ٹی 20 ورلڈ کپ کے میچز بھارت سے باہر منتقل کرنے کی درخواست مسترد کردی ہے اور بھارت جانے سے انکار پر بنگلہ دیش کو پوائنٹس کے نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر آئی سی سی کی سخت تنقید کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: آئی پی ایل سے نکالے گئے بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کا پی ایس ایل کھیلنے کا فیصلہ
سوشل میڈیا صارف سلیم خالق نے لکھا کہ اگر بھارت نے پاکستان کا دورہ نہ کرنے کا فیصلہ سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر کیا تو آئی سی سی کو کوئی اعتراض نہیں تھا لیکن اب جب بنگلہ دیش نے بھارت کے بارے میں یہی بات کی تو ان کی درخواست کیوں مسترد کی گئی؟
انہوں نے مزید کہا کہ بنگلہ دیش کی ٹیم کو کہا جا رہا ہے کہ اگر وہ بھارت نہ گئے تو پوائنٹس کھو دیں گے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا انگلینڈ یا آسٹریلیا کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا جاتا؟
If India said their team wouldn’t travel to Pakistan due to security concerns, the ICC had no objections. But now that Bangladesh has said the same thing about India, why has their request been denied? They’re even being told they’ll lose points if they don’t go. Would England or…
— Saleem Khaliq (@saleemkhaliq) January 7, 2026
دوسرے صارف سہیل عمران نے کہا کہ آئی سی سی نے کبھی بھارت سے نہیں کہا کہ پاکستان کا دورہ کریں یا پوائنٹس کھو دیں تو پھر بنگلہ دیش پر دباؤ کیوں ڈالا جا رہا ہے؟ یہ دوہرے معیار کی واضح مثال ہے۔
Did ICC ever tell India “tour Pakistan or forfeit points”?
No.
So why forcing Bangladesh now? double standards. #DoubleStandards #ICC #Bangladesh #India— Sohail Imran (@sohailimrangeo) January 7, 2026
ایک اور صارف نے کہا کہ جب بھارت پاکستان کا دورہ کرنے سے انکار کرتا ہے تو حکومت کی ہدایت کو قبول کیا جاتا ہے لیکن جب بنگلہ دیش یہی کہتا ہے تو اسے رد کر دیا جاتا ہے، اور آئی سی سی کی مستقل مزاجی ہمیشہ کمزور رہی ہے۔
Government advice is acceptable when India does not want to tour Pakistan. Unacceptable when it’s Bangladesh. Consistency has never been ICC’s strong suit.
— Umar Farooq Kalson (@kalson) January 7, 2026
ایک ایکس صارف کا کہنا تھا کہ جب بھارت کہتا ہے کہ ہم پاکستان نہیں کھیلیں گے تو چیمپیئنز ٹرافی کے میچز کچھ حد تک دبئی منتقل کر دیے جاتے ہیں۔ جب بنگلہ دیش کہتا ہے کہ ہم بھارت میں نہیں کھیلیں گے تو آئی سی سی کہتا ہے کہ پوائنٹس ضائع ہو جائیں گے۔ مزید منافقت کی مثال کیا ہو سکتی ہے؟
The ICC has become a puppet of the BCCI.
When India says we won't play in Pakistan, the champions trophy is partially moved to Dubai.
When Bangladesh says we won't play in India, the ICC says forfeit points.
Can't get more hypocritical pic.twitter.com/EeZYCS4MzU
— Parth MN (@parthpunter) January 7, 2026
تنقید کرتے ہوئے ایک صارف نے کہا کہ آئی سی سی کبھی بھی غیر جانبدار نہیں رہا لیکن اس بارے میں کوئی کچھ نہیں کہتا کیونکہ سب جانتے ہیں کہ اسے کون چلاتا ہے۔
Moeen Ali – ICC is never neutral, but no one says anything about it. Because everyone knows who runs it. pic.twitter.com/MTTwVM5uoi
— Nibraz Ramzan (@nibraz88cricket) January 7, 2026
بعد ازاں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ آئی سی سی نے بی سی بی کے تحفظات کے حوالے سے مل کر کام کرنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔ بی سی بی نے میڈیا میں گردش کرنے والی الٹی میٹم کی خبروں کی تردید کی اور کہا کہ آئی سی سی کی کمیونیکیشن کو سیاق و سباق سے ہٹ کر رپورٹ کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ حال ہی میں آئی پی ایل کی ٹیم کلکتہ نائٹ رائیڈرز نے بنگلہ دیش کے فاسٹ باؤلر مستفیض الرحمان کو بھارتی ہندو انتہا پسندوں کی دھمکیوں کے بعد لیگ سے باہر کر دیا تھا جس کے بعد دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے اور بی سی بی نے ہنگامی اجلاس بلاتے ہوئے اپنی ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔














