بھارت میں خواتین کے خلاف جنسی جرائم میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ایک کے بعد ایک سامنے آنے والے واقعات اس دعوے کو مزید تقویت دے رہے ہیں کہ ملک خواتین کے لیے غیر محفوظ بنتا جا رہا ہے۔ تازہ واقعے میں قومی سطح کے ایک شوٹنگ کوچ پر 17 سالہ خاتون کھلاڑی سے جنسی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے، جس کے بعد پولیس کارروائی اور کوچ کی معطلی عمل میں آ چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:’بھیا مت کرو‘، بھارت میں موٹرسائیکل رائیڈر جنسی بھیڑیے بن گئے
بھارتی ریاست ہریانہ کی پولیس نے قومی شوٹنگ کوچ انکُش بھاردواج کے خلاف 17 سالہ قومی سطح کی خاتون شوٹر سے مبینہ جنسی زیادتی کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔ واقعہ فرید آباد کے ایک ہوٹل میں پیش آیا، جہاں مبینہ طور پر کوچ نے کارکردگی جانچنے کے بہانے کم عمر کھلاڑی کو ہوٹل کے کمرے میں بلایا۔
ایف آئی آر کے مطابق یہ واقعہ نئی دہلی میں ڈاکٹر کرنی سنگھ شوٹنگ رینج پر ہونے والے قومی سطح کے مقابلے کے دوران پیش آیا۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ کوچ نے پہلے کھلاڑی کو ہوٹل کی لابی میں ملاقات کا کہا ،بعد ازاں دباؤ ڈال کر اسے کمرے میں آنے پر مجبور کیا، جہاں مبینہ طور پر جنسی زیادتی کی گئی۔
Haryana Police have booked a shooting coach for allegedly committing sexual assault against an 18-year-old national-level woman shooter at a hotel in Faridabad last month.
As reported by HT earlier, an FIR was registered following a detailed complaint by the shooter’s family,… pic.twitter.com/7WTqTrewDc
— Hindustan Times (@htTweets) January 8, 2026
پولیس کے مطابق متاثرہ کھلاڑی کے اہلِ خانہ کی تفصیلی شکایت پر منگل کے روز مقدمہ درج کیا گیا۔ تفتیش کے دوران گواہوں کے بیانات قلم بند کیے جا رہے ہیں جبکہ ہوٹل انتظامیہ سے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی طلب کر لی گئی ہے تاکہ الزامات کی تصدیق کی جا سکے۔
فرید آباد پولیس کے ترجمان یش پال یادو کا کہنا ہے کہ کیس کی سنگینی کے پیشِ نظر تمام شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور کم عمر لڑکی کے بیان کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ ملزم کے خلاف بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت میں ریپ کے ملزم بی جے پی رہنما کلدیپ سنگھ کو ضمانت ملنے پر احتجاج
واقعے کے بعد نیشنل رائفل ایسوسی ایشن آف انڈیا نے انکُش بھاردواج کو تمام ذمہ داریوں سے معطل کر دیا ہے۔ تنظیم کے سیکریٹری جنرل پون کمار سنگھ کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے تک ملزم کوچ کو کوئی نیا عہدہ یا ذمہ داری نہیں دی جائے گی۔
متاثرہ کھلاڑی نے الزام عائد کیا ہے کہ کوچ نے خاموش نہ رہنے کی صورت میں اس کے کیریئر کو نقصان پہنچانے اور اہلِ خانہ کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں بھی دیں۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسی کوچ کے رویے کا سامنا ایک اور خاتون شوٹر کو بھی کرنا پڑا تھا۔

یہ واقعہ ایک بار پھر بھارت میں خواتین، خصوصاً کم عمر لڑکیوں، کے تحفظ پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے اور اس تاثر کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ بڑھتے ہوئے جنسی جرائم کے باعث بھارت خواتین کے لیے غیر محفوظ ممالک میں شمار ہوتا جا رہا ہے۔














