وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق اہم کیسز کی سماعت سوموار تک ملتوی کر دی گئی۔ کیسز کی سماعت چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں قائم 3 رکنی بینچ نے کی۔
سماعت کے دوران مختلف کمپنیوں کے وکیل مخدوم علی خان نے اپنے دلائل مکمل کیے۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ٹیکس وصولی کی شرح میں اضافے نے پاکستان میں کاروبار کرنا انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔
پاکستانی اثاثے خطرے میں، عالمی اداروں کی وارننگ
مخدوم علی خان نے مؤقف اختیار کیا کہ عالمی مالیاتی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے تمام اثاثوں کو شدید خطرات لاحق ہیں، اور ایسے حالات میں اضافی ٹیکسز معیشت پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں ایک مرتبہ سپر ٹیکس لاگو کرنے کے بعد کیا قیامت تک چلے گا، جسٹس محمد علی مظہر کا استفسار
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پٹرولیم کمپنیز ایکٹ کے تحت حاصل کردہ استثنیٰ کو سپر ٹیکس کے سیکشن 4 سی کے ذریعے متاثر کیا گیا ہے، جو قانون کی روح کے خلاف ہے۔
صدر کے اختیارات فردِ واحد نہیں، آئینی دائرے میں ہیں
مخدوم علی خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ صدرِ پاکستان کو حاصل اختیارات کسی فردِ واحد کے ذاتی اختیارات نہیں بلکہ وہ یہ اختیارات بطور ایگزیکٹو اتھارٹی آف فیڈریشن استعمال کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدالتیں ہمیشہ اس اصول پر زور دیتی آئی ہیں کہ قوانین کی تشریح کا اختیار صرف عدلیہ کے پاس ہے۔
1948 کے قوانین کی خلاف ورزی کا مؤقف
وکیل کے مطابق پٹرولیم کمپنیوں کا استثنیٰ ختم کرکے ٹیکس ایکٹ 1948 اور پٹرولیم کمپنیز ایکٹ کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس ایکٹ 1948 کے تحت پٹرولیم ایکسپلوریشن کمپنیوں کو دی گئی چھوٹ کو ختم نہیں کیا جا سکتا تھا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کا حوالہ
مخدوم علی خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے بھی یہی قرار دیا تھا کہ دائرہ اختیار کے مطابق جو قانونی چھوٹ بنتی ہے، وہ دی جانی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے سپر ٹیکس یا سیکشن 4 سی مقدمہ کیا ہے؟
دلائل کے اختتام پر مخدوم علی خان نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کی حد مقرر کرنا بلاشبہ وفاق کا اختیار ہے، تاہم اس اختیار کا استعمال زیادتی کے بغیر ہونا چاہیے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیسز کی مزید سماعت سوموار تک ملتوی کر دی۔














