سپریم کورٹ نے پیپلز پارٹی کے رہنما اور وزیر اعلیٰ سندھ کے سابق مشیر محمد اسماعیل کی ضمانت منظور کر لی۔ عدالت نے ملزم کو ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔
’بار بار پاورفل کہا جا رہا ہے، آخر ہے کون؟‘
سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کے بارے میں بار بار ’پاورفل‘ کا لفظ استعمال کیا جا رہا ہے۔
جسٹس مسرت ہلالی نے بھی سوال اٹھایا ’کہا جا رہا ہے ملزم بہت پاورفل ہے، یہ ہے کون؟‘
وکیلِ صفائی کے دلائل
ملزم کے وکیل فرہاد ابڑو نے مؤقف اختیار کیا کہ محمد اسماعیل کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے اور وہ وزیر اعلیٰ سندھ کے سابق مشیر بھی رہ چکے ہیں، مگر انہیں جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا ہے۔
وکیل نے الزام لگایا کہ وزیر داخلہ نے ملزم کے خلاف جھوٹی 15 ایف آئی آرز درج کروائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملزم کو صرف ایک پراسیکیوشن گواہ کے بیان پر شاملِ تفتیش کیا گیا۔
سرکاری وکیل کی استدعا اور عدالت کی برہمی
سرکاری وکیل نے عدالت سے کیس ملتوی کرنے کی استدعا کی اور کہا کہ مقدمے کا ریکارڈ تاحال دستیاب نہیں۔
اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ منگوانا آپ کی ذمہ داری تھی، مذاق بنایا ہوا ہے، فائل کیوں نہیں منگوائی؟
مدعی مقدمہ کے وکیل کے اعتراضات
مدعی مقدمہ کے وکیل نے الزام عائد کیا کہ ملزم نے شکایت کنندہ کی بیٹی کو اپنی حراست میں رکھا، اور سارا وقوعہ محمد اسماعیل کی ایماء پر ہوا۔ انہوں نے کہا کہ واقعے میں 7 افراد قتل ہوئے۔
عدالت کے اہم ریمارکس
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے ’اگر 7 افراد قتل ہوئے تو ملزم کا نام پہلے روز ہی مقدمے میں ہونا چاہیے تھا۔‘
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 22 افراد کو نامزد کیا گیا لیکن محمد اسماعیل کا نام شروع میں شامل نہیں تھا۔
جسٹس ملک شہزاد نے کہا کہ ملزم تو آپ کی اپنی پارٹی کا بندہ ہے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے وکلا کو ہدایت کی کہ بار بار ملزم کے لیے بااثر ہونے کا لفظ استعمال نہ کریں۔
ضمانت کی منظوری
دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے محمد اسماعیل کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض رہائی کا حکم دے دیا۔














