ایران پر امریکی حملہ قریب، چند گھنٹوں میں کارروائی کا امکان، برطانوی خبر رساں ادارے کا دعویٰ

جمعرات 15 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کسی بھی وقت شروع ہو سکتی ہے، جب کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، فوجی نقل و حرکت اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت بیانات نے حملے کے خدشات کو مزید تقویت دے دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کے حکم پر ایران پر امریکی حملہ؟ ممکنہ فوجی آپشنز سامنے آ گئے

رائٹرز نے باخبر مگر نام ظاہر نہ کرنے والے مغربی اور یورپی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران پر امریکی حملہ قریب دکھائی دے رہا ہے اور یہ کارروائی آئندہ 24 گھنٹوں یا حتیٰ کہ چند گھنٹوں میں بھی ہو سکتی ہے۔ ایک مغربی فوجی عہدیدار کے مطابق تمام اشارے اس بات کی جانب ہیں کہ امریکی حملہ ناگزیر ہے، تاہم یہ بھی کہا گیا کہ موجودہ امریکی انتظامیہ غیر یقینی فضا قائم رکھنا اپنی حکمتِ عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایران کے خلاف متعدد سخت بیانات دیے ہیں۔ ایران اس وقت شدید عوامی احتجاج کی لپیٹ میں ہے، جو دسمبر کے اواخر میں مہنگائی اور ایرانی ریال کی قدر میں شدید کمی کے باعث شروع ہوا۔ تہران کا مؤقف ہے کہ ان مظاہروں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں اور بےامنی کے پیچھے امریکا اور اسرائیل کا ہاتھ ہے۔

رائٹرز کے مطابق 2 یورپی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی مداخلت اگلے 24 گھنٹوں میں ہو سکتی ہے، جب کہ ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی عندیہ دیا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران پر حملے کا فیصلہ کر چکے ہیں، اگرچہ ممکنہ کارروائی کی نوعیت اور دائرہ کار تاحال واضح نہیں۔

ادھر امریکا نے ممکنہ ایرانی جوابی کارروائی کے پیشِ نظر مشرقِ وسطیٰ میں واقع اپنے فوجی اڈوں سے کچھ عملے کو نکالنا شروع کر دیا ہے۔ امریکی حکام نے خطے میں موجود اپنے شہریوں کو بھی احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔

منگل کے روز صدر ٹرمپ نے ایرانی مظاہرین سے ریاستی اداروں کا کنٹرول سنبھالنے کی اپیل کی تھی، جب کہ اس سے قبل وہ یہ کہہ چکے ہیں کہ مدد راستے میں ہے۔ اس سے پہلے امریکی محکمہ خارجہ نے ایران میں موجود تمام امریکی شہریوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کے اطاعت کے مطالبے کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑا رہے گا،  آیت اللہ خامنائی

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ فوجی تصادم نہیں چاہتا، تاہم وہ جنگ کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر بات چیت منصفانہ، باعزت اور برابری کی بنیاد پر ہو تو تہران مذاکرات کے لیے بھی تیار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم