فوج میں غیر قانونی ہلاکتوں کی روایت پہلے سے تھی جبری گمشدگیاں بعد میں آئیں، سابق بنگلہ دیشی آرمی چیف

پیر 9 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق بنگلہ دیشی آرمی چیف اقبال کریم بھوئیاں نے بین الاقوامی جرائم کی ٹریبونل میں بیان دیا کہ فوج میں غیر قانونی ہلاکتوں کی روایت پہلے سے موجود تھی، اور بعد میں جبری گمشدگیاں نافذ کی گئیں۔

مزید پڑھیں:حسینہ واجد کی حوالگی سے متعلق بھارت نے ابھی تک جواب کوئی نہیں دیا، بنگلہ دیشی مشیر خارجہ

انہوں نے ریپڈ ایکشن بٹالین (RAB) کے قیام کی سخت تنقید کی اور کہا کہ فوجی تربیت یافتہ افسران شہریوں کو دشمن سمجھ کر کارروائیاں کرتے تھے، جبکہ ایمرجنسی رول اور سیاسی دباؤ نے غیر قانونی حراست اور ہلاکتوں کو معمول بنا دیا۔

بھوئیاں نے کہا کہ آرمی چیف بننے کے بعد انہوں نے غیر قانونی ہلاکتیں روکنے کی کوشش کی، اور RAB کے افسران کو احتیاط برتنے کی ہدایت دی، لیکن مزاحمت کرنے والے پروفیشنل افسران کو عموماً حوصلہ شکنی یا اہم عہدوں سے ہٹایا گیا۔

مزید پڑھیں:اشولیا ہلاکتیں: سابق بنگلہ دیشی رکنِ پارلیمنٹ محمد سیف الاسلام کو سزائے موت

انہوں نے یہ بھی کہا کہ RAB میں بھیجے گئے افسر اکثر واپس آ کر سخت گیر قاتل بن جاتے ہیں، اور اس سے بنگلہ دیش آرمی کے مستقبل کے حوالے سے شدید تشویش پیدا ہوئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایشائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.5 فیصد کردی، 4.5تک پہنچنے کا امکان

وساکھی میلہ: 2840 سکھ یاتری واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان پہنچ گئے، پرتپاک استقبال

روسی تیل کی ریفائننگ کے لیے بنگلہ دیش کا بھارت سے معاہدہ متوقع

پاکستان کی ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافہ، معیشت کے لیے مثبت اشارہ

میٹا نے اپنے انجنیئرز نئی اے آئی ٹیم میں منتقل کردیے، ملازمین کی برطرفی کا امکان

ویڈیو

ایران امریکا جنگ بندی: پاک فوج اور وزیراعظم کے حق میں یوم تشکر ریلی

پاکستان کی نئی عالمی پہچان، تنہائی سے مرکز امن تک

ایران، امریکا جنگ بندی: پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کو معاشی ترقی میں بدلنے کا موقع ہے، اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

اسلام آباد میں آخری اوور

اسلام آباد مذاکرات: لبنان جنگ سب بگاڑ سکتی ہے

امن مذاکرات: توقعات، امکانات اور خدشات