ممدانی کی ٹرمپ سے ملاقات: رہائشی بحران پر تعاون، امیگریشن پالیسیوں پر اختلاف برقرار

جمعہ 27 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی نے نے جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ سے ایک نتیجہ خیز ملاقات کی، جس میں رہائش، امیگریشن حکام کی جانب سے طلبا کی حراست اور دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ ان دونوں رہنماؤں کی گزشتہ سال کے اواخر میں ظہران ممدانی کی میئر کے انتخاب میں کامیابی کے بعد دوسری ملاقات تھی، واضح رہے کہ ظہران ممدانی ڈیموکریٹ جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ ریپبلکن جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ‘شہر کی ترقی کے لیے ایک ہیں،’ باہمی تناؤ کے باوجود ٹرمپ اور زہران ممدانی کی خوشگوار ملاقات

ممدانی نے سوشل میڈیا پر صدر ٹرمپ کے ساتھ اپنی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ سے مفید ملاقات کی اور وہ نیویارک شہر میں مزید رہائشی منصوبوں کی تعمیر کے لیے پرعزم ہیں۔

ممدانی کے مطابق انہوں نے صدر ٹرمپ کے سامنے جمعرات کو کولمبیا یونیورسٹی کی آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی طالبہ ایلمینا آغایوا کی امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ یعنی آئس کی جانب سے حراست کا معاملہ اٹھایا۔

ان کا کہنا تھا کہ بعد ازاں صدر ٹرمپ نے انہیں آگاہ کیا کہ طالبہ کو جلد ہی رہا کر دیا جائے گا۔

بعد میں امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے اعلان کیا کہ آغایوا کو رہا کر دیا گیا ہے تاہم ان کے خلاف ملک بدری کی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

اگرچہ دونوں رہنما ایک دوسرے کی پالیسیوں کے سخت ناقد رہے ہیں اور ان کے نظریات میں واضح فرق پایا جاتا ہے، تاہم نومبر میں ہونے والی ان کی پہلی ملاقات غیر متوقع طور پر خوشگوار رہی تھی، اس ملاقات میں بھی رہائشی اخراجات میں کمی پر بات ہوئی تھی۔

سابق ریئل اسٹیٹ ڈیویلپر ٹرمپ نے نیویارک میں مزید رہائش گاہوں کی تعمیر کی ممدانی کی تجویز کا خیرمقدم کیا تھا۔

2026 کے اواخر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کی جانب سے رہائش کو زیادہ قابلِ استطاعت بنانے کا وعدہ بھی کیا گیا ہے، کیونکہ گھروں کی قیمتیں چند سال قبل کے مقابلے میں اب بھی نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔

مہنگائی اور قابلِ برداشت رہائش ممدانی کی انتخابی کامیابی کے اہم نکات میں شامل تھے، صدر ٹرمپ نے اس ہفتے اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں بھی رہائشی اخراجات کم کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس حوالے سے بعض پالیسی اقدامات کا اعلان کیا۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے صحافی کے سخت سوال پر ممدانی کو کیسے مشکل سے نکالا؟

تاہم امریکا میں مارگیج یعنی رہن کی شرح سود اب بھی بلند ہے اور ملک کے بیشتر حصوں میں رہائش کی فراہمی طلب کے مقابلے میں کم ہے، جس کے باعث بہت سے خاندانوں کے لیے گھر کی ملکیت کا حصول مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

ماہرینِ معاشیات اور تجارتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی سخت تجارتی اور امیگریشن پالیسیوں کے باعث تعمیراتی سامان اور گھریلو آلات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ افرادی قوت کی کمی نے تعمیراتی شعبے کو متاثر کیا ہے، جس سے نئے گھروں کی تعمیر میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

ظہران ممدانی نے ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسیوں، خصوصاً آئس ایجنٹس کے استعمال اور ملک بدری کی کوششوں پر تنقید کی ہے، اسی طرح غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے حوالے سے صدر کی پالیسیوں کو بھی ہدفِ تنقید بنایا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا یوٹرن، میئر نیویارک ظہران ممدانی کی مدد کرنے کو تیار

نیویارک سٹی میئر کے دفتر کے مطابق ظہران ممدانی نے وائٹ ہاؤس کو 4 فلسطین حامی طلبا کی فہرست بھی فراہم کی جو ملک بدری کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، اور ان کیخلاف مقدمات کے خاتمے کے لیے مدد طلب کی۔

ان طلبا میں محمود خلیل، یونسیو چنگ، محسن مہداوی اور لقاع کردیہ شامل ہیں۔ کردیہ، جو حراست کے دوران دورے کے باعث حال ہی میں اسپتال منتقل کی گئی تھیں اور غزہ میں اپنے درجنوں اہلِ خانہ کو کھو چکی ہیں، تاحال آئس کی تحویل میں ہیں جبکہ دیگر 3 طلبا کو گزشتہ ایک سال کے دوران رہا کیا جا چکا ہے۔

صدر ٹرمپ نے فلسطین حامی مظاہرین کو یہود دشمن قرار دیا ہے، تاہم بعض یہودی گروہ پر مشتمل مظاہرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ان کی غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں اور فلسطینی علاقوں پر قبضے پر تنقید کو غلط طور پر یہود دشمنی سے جوڑتے ہیں اور فلسطینی حقوق کی حمایت کو انتہا پسندی قرار دینا درست نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’یہ خود کو جان بوجھ کر مظلوم ظاہر کرتے ہیں‘، امریکی گلوکار کی امریکی صیہونیوں پر شدید تنقید

پاکستان نے یو اے ای کے 3.45 ارب ڈالر کے ڈپازٹس مکمل واپس کر دیے

برطانیہ اور فرانس کی آبنائے ہرمز سیکیورٹی منصوبے پر پیشرفت، 44 ممالک لندن مذاکرات میں شریک

ڈیجیٹل معیشت کا فروغ: حکومت پنجاب کی 50 ہزار ماہانہ وظیفے کے ساتھ انٹرن شپ اسکیم کی رجسٹریشن شروع

بھارت کیجانب سے منشیات نیٹ ورک کو کیمیکل فراہمی بے نقاب، عالمی تشویش بڑھ گئی

ویڈیو

کرکٹ اسٹیڈیم میں اسمبلی اجلاس، پشاور کے شہری کیاکہتے ہیں؟

پاکستان کی کوششوں سے امن قائم ہو گا، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

سعودی عرب سے 3 بلین ڈالرز ملنے پر پاکستانی کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

عالمی دن پر کتاب سے مکالمہ

جنگ اور جنگ بندی کے مابین مرتب کیے 9 نتائج

لاہور پر ’مغل اعظم‘ کی یلغار