پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ترکیہ اور قطر نے ثالثی کے لیے دونوں ممالک کے حکام سے رابطے تیز کر دیے ہیں تاکہ تنازع جلد از جلد حل ہو سکے۔
معروف صحافی اعزاز سید کی رپورٹ کے مطابق ترکیہ نے اس معاملے میں متحرک کردار ادا کیا اور پاکستان اور افغانستان کے وزرائے خارجہ سے فون پر رابطہ کیا۔ ترک وزیر خارجہ خاقان فیدان نے پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ بات چیت کے بعد افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی سے بھی رابطہ کیا۔
اسی طرح، قطر کے وزیر مملکت برائے خارجہ نے بھی دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ بات کی تاکہ امن و مصالحت کی کوششیں آگے بڑھ سکیں۔
ترکیہ کے وزیر خارجہ نے قطری وزیراعظم و وزیر خارجہ سے بھی فون پر رابطہ کیا اور تنازعے کے پرامن حل پر بات چیت کی۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی مخلصانہ کردار کی پیشکش کی۔ اس کے علاوہ مصر اور سعودی عرب نے بھی رابطے کیے اور صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ چین اس معاملے پر گہری تشویش رکھتا ہے اور دونوں ممالک سے فوری حل کی اپیل کی ہے۔ روس نے بھی کشیدگی پر تشویش ظاہر کی، جبکہ امریکا کی جانب سے اب تک کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھیں:طالبان رجیم غیر قانونی و غیر نمائندہ حکومت اور دہشتگردوں کی پشت پناہ ہے، عطا اللّٰہ تارڑ
دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ طالبان حکومت یا کسی دہشتگرد گروہ کی مزید اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دیا جائے گا، اور سفارتی ذرائع کے مطابق ثالثی کی کوششیں جاری ہیں۔














