کینیڈا کی خفیہ ایجنسی نے کہا ہے کہ بھارت اب بھی کینیڈا کے خلاف غیر ملکی مداخلت اور جاسوسی میں ملوث اہم ممالک میں شامل ہے، جس سے ایک سینیئر سرکاری عہدیدار کے حالیہ بیان کی تردید ہوگئی ہے۔
کینیڈین سکیورٹی انٹیلی جنس سروس (سی ایس آئی ایس) کے ترجمان ایرک بالسم نے نیشنل پوسٹ کو ای میل میں بتایا کہ کینیڈا کے خلاف غیر ملکی مداخلت اور جاسوسی کے مرکزی کرداروں سے متعلق ادارے کا خطرے کا جائزہ تبدیل نہیں ہوا۔ اس سے قبل 3 فروری کو سی ایس آئی ایس کے ڈائریکٹر ڈین راجرز نے چین، روس اور بھارت کو ان ممالک میں شمار کیا تھا جو کینیڈا کو نشانہ بنانے میں سرگرم رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: کینیڈا: برٹش کولمبیا کے اسکول میں فائرنگ، 10 افراد ہلاک؛ مشتبہ حملہ آور بھی مارا گیا
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب وزیراعظم مارک کارنی بھارت کے دورے پر ہیں اور پیر کو نئی دہلی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کریں گے۔ گزشتہ ہفتے ایک سینیئر سرکاری عہدیدار نے دعویٰ کیا تھا کہ بھارت اب کینیڈین معاملات میں مداخلت نہیں کر رہا، تاہم وزیر خارجہ انیتا آنند نے اس مؤقف سے اختلاف کیا۔
سنہ 2023 میں اس وقت کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے ہاؤس آف کامنز میں کہا تھا کہ کینیڈا کے پاس ایسے شواہد ہیں جو سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نِجّر کے قتل کو بھارتی ایجنٹس سے جوڑتے ہیں۔ بعد ازاں آر سی ایم پی نے بھی متعدد پرتشدد جرائم کو بھارتی حکومت سے منسلک کیا، جس کے بعد دونوں ممالک نے سفارتکاروں کو ملک بدر کردیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: سڈنی واقعہ: آسٹریلوی ایجنسیوں نے تحقیقات کے لیے بھارت سے رابطہ کرلیا
کارنی کی حکومت اب بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات اور تجارتی معاہدے کی بحالی کی کوشش کر رہی ہے، تاہم کینیڈا کی سکھ برادری اور حکومتی ارکان کی جانب سے حالیہ متنازع بیان پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ سی ایس آئی ایس نے کہا ہے کہ وہ تمام ممالک کی جانب سے لاحق خطرات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔














