نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے گزشتہ روز سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کا دفاعی معاہدہ موجود ہے جس کے باعث موجودہ صورتحال حساس ہے۔
وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ایران کی جانب سے جوابی کارروائی میں بعض خلیجی ممالک متاثر ہوئے، تاہم سعودی عرب اور عمان کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ پاکستان نے دونوں ممالک کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کسی بھی عسکری محاذ آرائی کا حصہ نہیں بننا چاہتا اور سفارتکاری کو واحد مؤثر حل سمجھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے ایٹمی ہتھیار نہ بنانے پر اتفاق کیا، تنازع بات چیت سے حل ہو سکتا تھا: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار کے اس بیان کو سعودی عرب میں نہ صرف پسند کیا جارہا ہے بلکہ پاکستان کے اس موقف کو قدر کی نگاہ سے بھی دیکھا جارہا ہے۔
سوشل میڈیا پر کئی سعودی پاکستانی صارفین نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے بیان کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایران سے بات کرکے یاد دہانی کروائی ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ موجود ہے، جس کے بعد ایران نے اپنے دوست پاکستان کی بات کا احترام کیا۔
🚨 عاجل :
تصريح هام من باكستان:
أبلغنا إيران أن تأخذ في الاعتبار أن هناك اتفاقية الدفاع المشترك بيننا وبين السعودية.
— السهم السعودي🇸🇦 (@ALsahmaLsaudi) March 3, 2026
سعودی صحافی سلطان النفیعی نے بھی کہا کہ پاکستان نے ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ مشترکہ دفاعی معاہدہ فعال ہے اور سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن ہے۔
#باكستان تحذر #إيران: اتفاقية الدفاع المشترك فاعلة، و #السعوديه_خط_أحمر، والمصير واحد 🇸🇦 🇵🇰
اتفاق أضخم قوتين إسلامية؛ لا إسرائيلية ولا هندية #الرياض_الان #الدمام #عاجل_الان #إسرائيل pic.twitter.com/mcNjuNMWN7
— سلطان النفيعي (@sultanalnefaie) March 3, 2026
ایک سعودی سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ پاکستان نے ایران کو آگاہ کیا ہے کہ وہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے کو مدنظر رکھے۔
وسائل إعلام:
باكستان تبلغ إيران 🇮🇷 إلى أن تأخذ في الاعتبار اتفاقية الدفاع المشترك بينها و بين السعودية 🇸🇦 pic.twitter.com/ggV9PVz3fH
— تمرة • tmrrah (@tmrrah9) March 3, 2026
وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا تھا کہ حالیہ دنوں میں جو کچھ ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہیں اور تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کی میز پر واپس آنا ہوگا۔














