چین نے کہا ہے کہ وہ اپنی ’ریڈ لائنز‘ اور اصولوں کو برقرار رکھتے ہوئے امریکا کے ساتھ ہر سطح پر روابط اور بات چیت کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔
یہ بات چینی پارلیمنٹ کے ترجمان لوو چھین جیان نے بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا اور اسرائیل کی جارحیت، چین کا ایران کی خود مختاری کے احترام پر زور
نیشنل پیپلز کانگریس کا سالانہ اجلاس جمعرات سے شروع ہو رہا ہے، جس میں رواں سال کے معاشی اہداف اور حکومتی پالیسی ترجیحات کا اعلان کیا جائے گا۔
یہ اجلاس چین اور امریکا تعلقات کے ایک حساس مرحلے پر ہو رہا ہے، جب دونوں ممالک مارچ کے آخر میں بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی متوقع ملاقات سے قبل تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
China's top legislature says willing to work with the US but will hold its 'red lines'
China willing to work with the US to promote communication on all levels
Willing to maintain exchanges with the US Congress
Hopes that… https://t.co/DQ6tylnxJk
— Trading Signals Fx ® (@TSFX_forex) March 4, 2026
لوو چھین جیان نے کہا کہ چین اور امریکا کو ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے پرامن بقائے باہمی کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ چین کے اپنے اصول اور ریڈ لائنز ہیں اور وہ ہمیشہ اپنی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کا بھرپور دفاع کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سربراہانِ مملکت کے درمیان سفارت کاری دونوں ممالک کے تعلقات کی رہنمائی میں ایک ’ناقابلِ تلافی اسٹریٹجک کردار‘ ادا کرتی ہے۔ ان کے بقول دونوں ممالک کو چاہیے کہ تعاون کے شعبوں کی فہرست کو وسیع کریں اور مسائل کی فہرست کو کم کریں۔
لوو چھین جیان نے امریکی کانگریس پر زور دیا کہ وہ چین کو معروضی انداز میں دیکھے اور دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے مزید اقدامات کرے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ 31 مارچ سے 2 اپریل تک چین کا دورہ کریں گے، تاہم بیجنگ کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیں: ہالی ووڈ فلمیں بھی امریکا چین ٹیرف جنگ کی زد میں آگئیں
میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے اعلیٰ تجارتی مذاکرات کار آئندہ ہفتے پیرس میں ملاقات کریں گے، جہاں متوقع سربراہی اجلاس سے منسلک ممکنہ تجارتی معاہدوں پر بات چیت کی جائے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے ہفتے چین اور امریکا تعلقات کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ دونوں عالمی طاقتیں باہمی اختلافات کم کرتے ہوئے تعاون کے نئے امکانات تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔














