لاہوراینٹی کرپشن پولیس نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی صدر سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ انہیں چوہدری ظہور الٰہی روڈ پر واقع ان کی رہائشگاہ کا چاروں اطراف سے گھیراؤ کر کے گرفتار کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق چوہدری پرویز الٰہی جمعرات کو اپنے گھر ہی میں موجود تھے کہ اینٹی کرپشن پولیس نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور گرفتار کر لیا۔ چوہدری پرویز الٰہی کے گھر کے اردگرد 3 سے 4 روز سے پولیس چھاپے مار رہی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:پرویز الٰہی کی متوقع پریس کانفرنس اور مونس الٰہی کا ردعمل
واضح رہے کہ چوہدری پرویزالٰہی پر فوجداری مقدمہ کے علاوہ کرپشن کے 2 مقدمات تھے، ان میں اسے ایک مقدمہ گجرانوالہ اور دوسرا مقدمہ منڈی بہاؤالدین سے تھا۔ جب کہ فوجداری مقدمہ میں چوہدری پرویزالٰہی عدالت میں حاضر نہیں ہو رہے تھے جس کی وجہ سے ان کی ضمانت منسوخ ہوگئی تھی۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی صدر چوہدری پرویز الٰہی کے خلاف اینٹی کرپشن کے مقدمات درج ہیں جن میں سابق وزیر اعلٰی پر ترقیاتی اسکیموں میں کِک بیکس لینےکے الزامات ہیں۔
چوہدری پرویز الٰہی نے کرپشن کے مقدمے میں عدالت میں عبوری ضمانت کی درخواست دائر کی تھی تاہم گوجرانوالہ کی اینٹی کرپشن عدالت نے چوہدری پرویز الٰہی کی درخواست مسترد کر دی تھی کیونکہ ضمانت کے لیے ملزم کا عدالت میں پیش ہونا ضروری ہوتا ہے۔ چوہدری پرویز الٰہی نے جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹ عدالت میں پیش کیا تھا جس کے بعد ان کی ضمانت منسوخ ہو گئی تھی اور وہ اپنی گرفتار نہیں دے رہے تھے جس پرجمعرات کو اینٹی کرپشن فورسسزانہیں گرفتار کر کے نامعلوم مقام کی طرف لے گئی ہیں۔
CamScanner 05-25-2023 18.33 by Iqbal Anjum on Scribd
پرویز الٰہی فرار کی کوشش میں گرفتار ہوئے: نگران وزیر اطلاعات پنجاب
ادھر ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیر اطلاعات پنجاب عامر میر نے چوہدری پرویز الٰہی کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ پرویز الٰہی پولیس کو مطلوب تھے اور وہ پیر کو فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے کہ گرفتار کر لیے گئے۔
وزیر اطلاعات کامزید کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے صدرچھپنے کی کوشش میں ماہر ہیں لیکن پولیس کچھ روز سے ان کے تعاقب میں یہاں موجود تھی۔ وہ اگر آج بھی نہ گھر سے باہر نہ نکلتے تو ممکن ہے گرفتار نہ ہوتے۔
عامرمیر نے مزید بتایا کہ چوہدری پرویز الٰہی جس وقت گرفتار ہوئے تو یہاں پر انہوں نے مزاحمت بھی کی۔ پولیس نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی لیکن وہ دروازہ کھولنے کے لیے تیار نہ تھے۔ اس پر پولیس نےگاڑی کا شیشہ توڑ کر انہیں باہر لانے کی کوشش کی جس پر پرویز الٰہی گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر آ گئے۔ان کا کہنا تھا کہ پرویز الٰہی کی گاڑی بلٹ پروف تھی۔
پرویز الٰہی کو ’ایم پی اُو‘ کے تحت گرفتار نہیں کیا گیا: عامر میر
انہوں نے یہ واضح کیا کہ پرویز الٰہی کو ’مینٹیننس آف پبلک آرڈر‘(ایم پی اُو) کے تحت گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ جب کہ پی ٹی آئی کے کئی دیگر اراکین اور رہنماؤں کو 9 مئی کو پارٹی سربراہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں کے دوران توڑ پھوڑ میں ملوث ہونے کے الزام میں اسی’ایم پی او‘ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔
عامر میر کے مطابق پرویز الٰہی کو اب عدالت میں پیش کیا جائے گا اور اس کے بعد ان کی قانونی ٹیم کو ان تک رسائی کی اجازت دی جائے گی۔
پرویز الٰہی کے خلاف انتقامی کارروائی کی جا رہی ہے: فرخ حبیب
ادھر پرویز الٰہی کے ترجمان اقبال چوہدری نے الزام لگایا کہ حکام نے گرفتاری کے دوران ان کے ہمراہ سفر پر جانے والی خواتین کے ساتھ ‘بدتمیزی’ کی۔ ادھر پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب نے پرویز الٰہی کی گرفتاری کو ‘انتقام کی کارروائی’ قرار دیا ہے۔ ادھر پرویز الٰہی کے ڈرائیور نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پرویز الٰہی گلگت بلتستان کے لیے روانہ ہو رہے تھے۔ انہوں نے جوں ہی نکلنے کی کوشش کی تو انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کی اعلیٰ قیادت میں سے اس وقت شاہ محمود قریشی، علی محمد خان، یاسمین راشد، محمود الرشید اور دیگر بھی زیر حراست ہیں۔
والد نے کہا تھا، گرفتار بھی ہو گئے تو بھی عمران کا ساتھ دینا ہے: مونس الٰہی
ادھر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر چوہدری پرویز الٰہی کے بیٹے مونس الٰہی نے والد کی گاڑی کے ٹوٹے شیشے والی ایک تصویر کے ساتھ ٹویٹ کیا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ ’جنوری سے پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع کیا تھا تب میرے والد نے مجھے یہ کہا تھا کہ چاہے مجھے بھی گرفتار کر لیں ہم نے عمران خان کا ساتھ دینا ہے ۔
جنوری سے پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع کیا تھا تب میرے والد نے مجھے یہ کہا تھا کہ چاہے مجھے بھی گرفتار کر لیں ہم نے عمران خان کا ساتھ دینا ہے ۔ 3 دن پہلے میرے والد اور والدہ نے یہی چیز دہرائی۔اب کہا جا رہا ہے کہ پولیس نے میرے والد کو جھوٹے مقدموں میں گرفتار کیا ہے۔ ہم انشا ءاللہ پی ٹی… pic.twitter.com/TqbWlkbZ0U
— Moonis Elahi (@MoonisElahi6) June 1, 2023
3 دن پہلے میرے والد اور والدہ نے یہی چیز دہرائی۔اب کہا جا رہا ہے کہ پولیس نے میرے والد کو جھوٹے مقدموں میں گرفتار کیا ہے۔ ہم ان شاءاللہ پی ٹی آئی میں ہیں اور رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار کے بھائی عامر ڈار کا سیاست چھوڑنے کا اعلان
ایسے وقت میں جب پرویز الٰہی پر بزرگی طاری ہےاورانہیں جواں سال بیٹے کے سہارے کی ضرورت ہے، بیٹا سات سمندر دور سے عمران خان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہنے کی نوید سنا رہا ہے، اس عمران خان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملائے رکھنے کا دعویٰ کر رہا ہے جو خود زمان پارک کے اسیر بن کر رہ گئے ہیں، کوئی دن نہیں جاتا کہ یہ خانہ بندی تمام ہو، اڈیالہ کے در کُھل جائیں اور وہ شاخ ہی نہ رہے جس پر مونس الہٰی آشیانہ بنانے کے خواہاں ہیں۔
ایک صحافی نے ٹوئٹ کیا تھا کہ ’ سنا ہے پرویز الٰہی بھی پریس کانفرنس کی تیاری کر رہے ہیں‘ تو جواب میں مونس الہٰی نے ترنت ٹوئٹ کیا کہ:
’جیت ہوگی ہار ہوگی وہ بعد میں ہوگی
فی الحال وفا ہوگی، وفاداری ہوگی اور سرِ عام ہوگی













