ایران میں جاری کشیدہ صورتحال اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ کیا افغانستان کے بعد اب ایران سے بھی بڑی تعداد میں لوگ پاکستان کا رخ کریں گے۔ حالیہ دنوں میں ایران سے پاکستانیوں کے انخلا کے ساتھ ساتھ بعض ایرانی شہریوں کی پاکستان آمد کی اطلاعات نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کسی غیر قانونی مقیم افغان شہریوں کو اب ملازمت یا رہائش نہ دی جائے، حکومت پاکستان کا واضح اعلان
سینیٹ کے اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران پر حملہ اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنائی کی شہادت عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے فوری طور پر ایران، خطے کے ممالک اور عالمی قیادت سے رابطے کیے اور مسئلے کے حل کے لیے سفارتی کوششیں شروع کیں۔
اسحاق ڈار کے مطابق ایران اور خلیجی ممالک کی فضائی حدود بند ہونے کے باعث کئی افراد مختلف ممالک میں پھنس گئے ہیں۔ ایران میں اس وقت 33 ہزار سے زائد پاکستانی موجود ہیں جن کے انخلا کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک 792 پاکستانی ایران سے واپس آ چکے ہیں جبکہ 64 پاکستانی آذربائیجان پہنچ چکے ہیں۔ وزیر خارجہ کے مطابق تقریباً 300 ایرانی شہری بھی پاکستان آئے ہیں۔
ادھر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ایران میں پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر صوبائی حکومت نے تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری کر لی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان-ایران سرحد پر واقع تفتان بارڈر کے ذریعے پاکستانی شہریوں کی آمد جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کا ایرانی گاؤں سرابیلہ پر حملہ، 5 شہری شہید
میر سرفراز بگٹی کے مطابق اب تک تفتان بارڈر کے ذریعے مجموعی طور پر 1979 افراد پاکستان داخل ہو چکے ہیں جن میں 37 سفارتکار بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرحد پر امیگریشن، سیکیورٹی اور ضلعی انتظامیہ سمیت تمام ادارے ہمہ وقت اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں تاکہ آنے والے افراد کو ضروری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
حکومت بلوچستان کے مطابق ایران سے آنے والے پاکستانی شہریوں، خصوصاً طلبہ کو پہلے سرحدی علاقوں میں عارضی پناہ اور خوراک فراہم کی جاتی ہے، جس کے بعد انہیں بسوں کے ذریعے کوئٹہ منتقل کیا جاتا ہے۔ کوئٹہ میں انہیں امام بارگاہوں میں قیام اور کھانے پینے کی سہولیات فراہم کرنے کے بعد ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کیا جاتا ہے۔ تاہم ایرانیوں کی پاکستان آمد سے متعلق حکومت بلوچستان نے کسی قسم کی تصدیق نہیں کی۔
دوسری جانب وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے پیش نظر وزارت خارجہ کا کرائسس مینجمنٹ یونٹ چوبیس گھنٹے فعال ہے اور بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوں میں خصوصی سہولت ڈیسک قائم کیے گئے ہیں تاکہ پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو ویزا، سفری انتظامات اور دیگر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
ادھر ایرانی سفیر نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ گزشتہ رات نو ایرانی ملاحوں کو بحفاظت ان کے جہاز سے بندر عباس منتقل کیا گیا جبکہ چھ ملاح اپنی مرضی سے جہاز پر ہی موجود رہے۔ بعد ازاں بعض افراد کو پاکستان بھیجا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کا ایران پر حملہ قانونی قرار دینے پر اصرار ، صدر کی ’وار پاورز‘ پر بحث چھڑ گئی
ماہرین کے مطابق اگر ایران میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو اس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ ماضی میں افغانستان میں جنگ اور عدم استحکام کے باعث لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان آئے تھے جو کئی دہائیوں تک یہاں مقیم رہے۔ اگر ایران میں بھی صورتحال طویل عرصے تک خراب رہتی ہے تو امکان ہے کہ سرحدی علاقوں سے لوگوں کی نقل مکانی بڑھ سکتی ہے۔
پاکستان پہلے ہی افغان مہاجرین کے مسئلے سے دوچار ہے، ایسے میں اگر ایران سے بھی بڑی تعداد میں افراد سرحد پار کرتے ہیں تو اس سے معاشی، سماجی اور سیکیورٹی چیلنجز میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم حکومتی ذرائع کے مطابق فی الحال سرحد پر آنے والے زیادہ تر افراد پاکستانی شہری یا سفارتی عملہ ہیں اور 300 سے زائد ایرانیوں کی پاکستان آمد کے حوالے سے حکومت بلوچستان کی جانب سے باضابطہ تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ انسانی ہمدردی کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سرحدی انتظامات کو مؤثر بنائے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے۔














