ڈھاکہ میں جماعتِ اسلامی کا احتجاجی مظاہرہ، انتخابی بے ضابطگیوں پر سابق مشیروں سے تفتیش کا مطالبہ

جمعہ 6 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

بنگلہ دیش کی جماعتِ اسلامی نے دارالحکومت ڈھاکہ میں احتجاجی ریلی نکال کر تیرہویں پارلیمانی انتخابات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات اور عبوری حکومت کے 2 سابق مشیروں سے پوچھ گچھ کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا عوامی لیگ رہنماؤں کی ضمانت اور دفاتر کھولنے پر تشویش کا اظہار

بنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی نے جمعہ کے روز دارالحکومت ڈھاکا میں احتجاجی ریلی اور مظاہرہ کیا جس میں تیرہویں پارلیمانی انتخابات میں مبینہ انتخابی انجینئرنگ کے الزامات کے تحت عبوری حکومت کے دو سابق مشیروں سے تفتیش کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ احتجاج ڈھاکا میٹروپولیٹن جماعتِ اسلامی کی جانب سے بیت المکرم قومی مسجد کے شمالی دروازے کے قریب منعقد کیا گیا۔

ریلی سے خطاب کرتے ہوئے جماعتِ اسلامی کے سیکریٹری جنرل اور سابق رکن پارلیمنٹ میاں غلام پرور نے کہا کہ جماعتِ اسلامی ہجوم کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی بلکہ جمہوری اور آئینی طریقہ کار کے تحت اپنی سیاسی سرگرمیاں انجام دیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعتِ اسلامی ایک منظم، نظریاتی اور جمہوری جماعت ہے اور اس کے ناقدین بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ جماعت ہمیشہ امن کے قیام کی حامی رہی ہے۔

میاں غلام پرور نے الزام عائد کیا کہ تیرہویں پارلیمانی انتخابات کے نتائج مختلف مراحل پر مبینہ طور پر تبدیل کیے گئے، جن میں ووٹوں کی گنتی سے لے کر حتمی نتائج کے اعلان تک کے مراحل شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عبوری حکومت کے بعض ارکان نے بھی انتخابات کے بعد بے ضابطگیوں کا اعتراف کیا۔

انہوں نے سابق مشیر سیدہ رضوانہ حسن کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے تسلیم کیا تھا کہ جماعتِ اسلامی کو پارلیمانی نمائندگی حاصل ہونے کے باوجود مرکزی سیاست میں جگہ نہیں دی گئی۔ میاں غلام پرور نے سابق سیکیورٹی مشیر ڈاکٹر خلیل الرحمان کی بعد ازاں بی این پی حکومت میں وزیر خارجہ کے طور پر تقرری کو بھی سیاسی انجینئرنگ کی مثال قرار دیا۔

جماعتِ اسلامی کے رہنما نے مطالبہ کیا کہ سیدہ رضوانہ حسن اور ڈاکٹر خلیل الرحمان کو حراست میں لے کر ان سے پوچھ گچھ کی جائے تاکہ انتخابات میں ان کے مبینہ کردار کا تعین کیا جا سکے۔ انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ نام نہاد ’’جولائی چارٹر‘‘ کے نفاذ میں رکاوٹ ڈال رہی ہے اور اس معاملے کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لانے کے بجائے عدالتوں پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی حکومتی وزیر کی جانب سے ‘انقلاب زندہ باد’ پر تنقید کی مذمت

احتجاجی جلسے کی صدارت ڈھاکا ساؤتھ جماعت کے نائب امیر ڈاکٹر ہلال الدین نے کی جبکہ اس کی نظامت محمد دلاور حسین نے کی۔ اس موقع پر رکن پارلیمنٹ محمد کمال حسین اور یاسین عارفات سمیت جماعت کے دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔

جلسے کے بعد شرکا نے بیت المکرم مسجد کے شمالی دروازے سے احتجاجی جلوس نکالا جو پلٹن چوک سے ہوتا ہوا بیجوئے نگر چوک پر اختتام پذیر ہوا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp