سعودی عرب کے دار الحکومت ریاض میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی وزیر دفاع اور شاہی خاندان کے رکن شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز سے اہم ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں دونوں برادر ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اور خطے کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران ایران کی جانب سے مملکت سعودی عرب کے خلاف حالیہ حملوں کے معاملے پر خصوصی گفتگو ہوئی، جسے دونوں ممالک کے درمیان موجود مشترکہ اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کے تناظر میں زیر بحث لایا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: پاک سعودی یکجہتی کونسل کی ایران امریکا جنگ میں پاکستانی موقف کی مکمل حمایت
فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ اس نوعیت کی کارروائیاں خطے کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں اور اس کشیدگی کو فوری طور پر کم کرنے کی ضرورت ہے۔
دونوں رہنماؤں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایرانی قیادت دانشمندی اور تدبر کا مظاہرہ کرے گی اور ایسے فیصلوں سے گریز کرے گی جو غلط اندازوں یا غیر ضروری تصادم کا باعث بن سکتے ہیں۔ ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے سفارتی راستوں اور ذمہ دارانہ رویے کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
Met with Pakistan’s Chief of Army Staff and Chief of Defense Forces, Field Marshal Asim Munir. We discussed Iranian attacks on the Kingdom and the measures needed to halt them within the framework of our Joint Strategic Defense Agreement. We stressed that such actions undermine… pic.twitter.com/OuELnf9LU6
— Khalid bin Salman خالد بن سلمان (@kbsalsaud) March 7, 2026
اس موقع پر سعودی عرب کی جانب سے سعودی چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض بن حامد الرویلی اور وزیر دفاع کے مشیر برائے انٹیلی جنس ہشام بن عبدالعزیز بن سیف بھی موجود تھے۔ جبکہ پاکستانی وفد میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے سیکریٹری میجر جنرل محمد جواد طارق شریک تھے۔
یہ بھی پڑھیے: پاک سعودی دفاعی معاہدہ: ایک خاموش مگر مضبوط شراکت داری
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سیکیورٹی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، اور سعودی عرب اور پاکستان جیسے اہم اتحادی ممالک باہمی مشاورت کے ذریعے امن اور استحکام کے فروغ کے لیے رابطے جاری رکھے ہوے ہیں۔














