رکن کشمیر کونسل حنیف ملک نے صدر آزاد جموں و کشمیر کے انتخابی طریقہ کار کے خلاف آزاد جموں و کشمیر ہائیکورٹ مظفرآباد میں اہم آئینی رٹ پٹیشن دائر کر دی۔
درخواست میں تیرہویں آئینی ترمیم کو چیلنج کیا گیا ہے جس کے تحت صدارتی انتخاب کا اختیار صرف قانون ساز اسمبلی تک محدود کر دیا گیا ہے۔ درخواست گزار کا موقف ہے کہ یہ ترمیم آئین اور آئینی ڈھانچے کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔
مزید پڑھیں: آزاد جموں و کشمیر ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ، ضلعی کوٹہ سسٹم ختم
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ترمیم سے قبل صدر کا انتخاب مشترکہ انتخابی کالج کے ذریعے ہوتا تھا اور کشمیر کونسل کے اراکین سے ووٹ کا حق واپس لینا غیر آئینی اقدام ہے۔
مزید موقف میں کہا گیا کہ آئینی ترمیم کے لیے درکار قانونی طریقہ کار اور قواعد کی مکمل پابندی نہیں کی گئی، اور بعض ترامیم وفاقی کابینہ کی منظوری کے بغیر شامل کی گئیں۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی کو جلد سفارشات مکمل کر کے پیش کرنے کا حکم دیا جائے، آئین عبوری 1974 کے آرٹیکل 2 اور 5 میں کی گئی ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے اور صدارتی انتخاب کو فیصلے تک روکا جائے۔
مزید پڑھیں: موجودہ حکومت کی کامیابی ہے کہ عوام کا ریاستی نظام پراعتماد بحال ہوا ہے، وزیراعظم آزاد کشمیر
رٹ پٹیشن کے ساتھ تیرہویں آئینی ترمیم سے متعلق نوٹیفکیشنز اور دستاویزات بطور شواہد جمع کروا دی گئی ہیں۔













