متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے ایران کی جانب سے حالیہ حملوں کے بعد عوامی سطح پر پہلا بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک اس وقت حالت جنگ میں ہے اور یو اے ای آسان شکار نہیں۔
انہوں نے یقین دلایا کہ ملک، عوام اور رہائشیوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام کیے جائیں گے۔ صدر نے کہا کہ یو اے ای کی کھال موٹی اور گوشت کڑوا ہے، ہم آسان شکار نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاک سعودی یکجہتی کونسل کی ایران امریکا جنگ میں پاکستانی موقف کی مکمل حمایت
اماراتی وزارت دفاع کے مطابق آج دفاعی نظام نے 16 بیلسٹک میزائلوں میں سے 15 کو ناکام بنایا جبکہ ایک میزائل سمندر میں گر گیا۔ اسی طرح 121 ایرانی ڈرونز میں سے 119 کو روک لیا گیا اور دو اماراتی سرزمین پر گرے۔
اب تک جاری ایرانی حملوں کے دوران یو اے ای نے 221 بیلسٹک میزائلز کا سامنا کیا، جن میں سے 205 کو تباہ کیا گیا، 14 سمندر میں گر گئے اور 2 اماراتی علاقے میں پہنچے۔ ساتھ ہی آٹھ کروز میزائلز کو بھی ناکام بنایا گیا۔ ان حملوں میں3 افراد ہلاک ہوئے، جن کی شناخت پاکستانی، نیپالی اور بنگلہ دیشی کے طور پر ہوئی جبکہ 112 افراد معمولی زخمی ہوئے۔

دھماکوں اور میزائل حملوں کے دوران دبئی اور ابوظہبی میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دی گئیں، جبکہ بحرین کی دارالحکومت منامہ میں بھی سائرن بجے۔ دبئی ایئرپورٹ پر کچھ پروازیں وقتی طور پر رکیں اور بعض پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔
اس سے قبل دبئی اور قطر کے شہریوں کو ممکنہ میزائل حملے کے بارے میں موبائل الرٹس موصول ہوئے، تاہم بعد میں قطر نے شہریوں کو یقین دہانی کرائی کہ خطرہ ختم ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات، امریکا میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ
صدر محمد بن زاید نے کہا کہ یو اے ای اس جنگ کے بعد مضبوط ہو کر ابھرے گا اور دفاعی اقدامات جاری رکھے جائیں گے تاکہ ملک اور رہائشی محفوظ رہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مستقبل کے کسی بھی مذاکرات میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو مرکزی مسئلہ بنایا جائے گا تاکہ خطے میں اعتماد کا فقدان کم ہو اور سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔














