ٹریول ایجنٹ کا انتخاب کرتے ہوئے کن ضروری باتوں کو مدنظر رکھنا چاہیے؟

منگل 24 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستانی نوجوانوں میں تعلیم کے لیے بیرون ممالک جانے کا رجحان تو بڑھا ہے مگر اس کے ساتھ ہی ایک بہت بڑی تعداد سیروتفریح میں بھی خاصی دلچسپی رکھتی ہے۔ خاص طور پر اس ڈیجیٹل دور میں نہ صرف پاکستان میں سیرو سیاحت کا رجحان بڑھا ہے بلکہ بیرون ممالک جا کر مختلف جگہوں کو ایکسپلور کرنا بھی آج کے نوجوانوں کا پسندیدہ مشغلہ بنتا جا رہا ہے۔

لیکن یہ سب کچھ ممکن بنانے کے لیے صرف اچھا بجٹ ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ ایک معتبر اور تجربہ کار ٹریول ایجنٹ کا ہونا بھی انتہائی ضروری ہے۔ تاکہ کسی بھی قسم کے فراڈ یا بد انتظامی سے بچا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:قدرتی تنوع اور ثقافتی ورثے کے ساتھ جازان شہر سعودی عرب کا اہم سیاحتی مرکز

اس لیے یہاں اہم بات سمجھنے کی یہ ہے کہ اگر کوئی شخص پاکستان سے باہر جانا چاہتا ہے اور وہ کسی ایسے ٹریول ایجنٹ کی تلاش میں ہے جو قانون کے دائرے میں رہ کر اسے گائیڈ کرے، اور اس کو باہر بھیجنے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کرے، وہ ایسا ٹریول ایجنٹ کیسے تلاش کرسکتا ہے؟

اس حوالے سے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے گلف ممالک کی سیرو سیاحت میں خاصہ تجربہ رکھنے والے ٹریول ایجنٹ یوسف جنید کا کہنا تھا کہ جب کوئی شخص ایجنٹ سے رابطہ کرے تو سب سے پہلے وہ اس کا لائسنس ویری فائی کرے۔ اگر وہ اوورسیز ورک پرمٹ یا اس سے منسلک جو بھی سروسز دے رہا ہوتا ہے تو پاکستانی حکومت اس کو اوورسیز کا لائسنس دیتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر ٹکٹنگ کے حوالے سے آپ کسی ایجنٹ سے رابطہ کر رہے ہیں تو اس صورت میں انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن ( آئی اے ٹی اے) یا پھر ڈیپارٹمنٹ آف ٹورسٹ سروسز یا ڈیفنس ٹریول سسٹم (ڈی ٹی ایس) کا لائسنس لازمی اس کے پاس ہونا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ اگر کسی کے پاس یہ لائسنسز ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ لیگل ٹریول ایجنٹ ہے۔

پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیاحت کے حوالے سے سیروسز فراہم کرنے والے ٹریول ایجنٹ محمد فرہاد کا کہنا تھا کہ ٹریول ایجنٹ کا انتخاب کرتے ہوئے کچھ چیزوں کو لازمی مد نظر رکھنا چاہیے۔ آپ ایسے ٹریول ایجنٹس کو ترجیح دیں جن کے پاس متعلقہ سرکاری اداروں سے جاری کردہ درست رجسٹریشن اور لائسنس موجود ہو۔

ہمیشہ پاکستان ٹور ازم ڈیویلپمنٹ کارپوریشن (PTDC) سے منظور شدہ ٹریول ایجنٹس کو ترجیح دیں۔ ایسے ایجنٹ سے رابطہ کریں جس کے پاس سفری صنعت میں کافی تجربہ ہو۔ آن لائن جائزوں اور دوستوں یا جاننے والوں کے ذریعے ایجنٹ کی ساکھ کی جانچ پڑتال کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستانی شہری اب برطانیہ کے لیے ڈیجیٹل ویزا حاصل کرسکیں گے

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایجنٹ سے تمام خدمات اور متعلقہ اخراجات کی تفصیلی فہرست لازمی حاصل کریں۔ سفر کے انتظامات کرنے سے پہلے تمام شرائط و ضوابط کو بغور پڑھیں۔ معاہدے کی ایک کاپی اپنے پاس رکھیں جس میں تمام تفصیلات درج ہوں۔ بہت ہی کم قیمتوں والی آفر سے ہمیشہ ہوشیار رہیں۔ سفر کی بکنگ کرنے سے پہلے ہوٹلوں اور ایئر لائنز کی ویب سائٹس پر براہ راست قیمتوں کی تصدیق لازمی کر لینی چاہیے۔

ادائیگی کے لیے ہمیشہ محفوظ اور قابل اعتماد طریقوں کو ترجیح دیں۔ اس کے علاوہ کسی بھی ایسے ایجنٹ سے دور رہیں جو صرف نقد ادائیگی کا مطالبہ کرے۔

حج، عمرہ، پاکستان اور بیرون ممالک سیاحت سے منسلک سروسز مہیا کرنے والے ڈائریکٹر اختر ٹریول اینڈ ٹورزم، احمد خان نے بتایا کہ ٹریول ایجنٹ سے رابطہ کرتے ہوئے سب سے پہلے اس چیز کو مد نظر رکھا جائے کہ وہ ٹریول ایجنٹ مارکیٹ میں کتنے عرصہ سے کام کر رہا ہے؟ اب تک اس نے کتنے افراد کو قانونی تقاضوں کے مطابق باہر ممالک بھیجا ہے؟ اس کے علاوہ وہ لازمی طور پر ٹور ازم ڈیپارٹمنٹ سے منسلک ہو، یعنی اس کے پاس ٹور ازم ڈیپارٹمنٹ کا لائسنس ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ ٹریول ایجنٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان سے رجسٹرڈ شدہ ہو۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جو شخص ایڈوانس پیسوں کا مطالبہ کرے تو وہ قابل اعتبار نہیں ہوتا کیونکہ ادائیگی تو ویزے کے بعد ہوتی ہے۔ اور اگر کوئی ٹریول ایجنٹ اپنی بات سے پھر جائے، یا آپ کو کام کی تاخیر کی وجہ پیسے بتائے تو میرے خیال میں ایسے ٹریول ایجنٹ ٹھیک نہیں ہوتے۔
انہوں نے بتایا کہ بعض اوقات لائسنس ہولڈرز بھی فراڈ کرتے ہیں۔ اس لیے بات چیت اور ادائیگی کے معاملات سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ شخص دیانت دار نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کینیڈا سے چپقلش کے پیش نظر بھارت نے ٹریول ایڈوائزری جاری کردی

پاکستان کی ٹورزم انڈسٹری سے وابستہ ٹریول کنسلٹنٹ احمر بلال کے مطابق بیرونِ ملک تعلیم اور سیاحت کے بڑھتے ہوئے رجحان کے ساتھ ٹریول ایجنٹس کے فراڈ کے کیسز بھی سامنے آ رہے ہیں، اس لیے لوگوں کو ایجنٹ کا انتخاب کرتے وقت خاص احتیاط برتنی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف اچھا بجٹ ہونا کافی نہیں بلکہ ایک معتبر، شفاف اور رجسٹرڈ ٹریول ایجنٹ کا انتخاب ہی سفر کے منصوبے کو محفوظ بناتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی ایجنٹ کا انتخاب کرنے سے پہلے اس کے آن لائن ریویوز اور ریفرنسز ضرور چیک کرنے چاہییں۔ گوگل، فیس بک یا دیگر پلیٹ فارمز پر پچھلے کلائنٹس کے تجربات دیکھنا اور اپنے جاننے والوں سے رائے لینا فراڈ سے بچنے میں مدد دے سکتا ہے۔

احمر بلال کے مطابق ادائیگی سے پہلے مکمل تحریری معاہدہ لینا بھی ضروری ہے، جس میں خدمات کی تفصیل، فیس، ریفنڈ پالیسی اور دیگر شرائط واضح طور پر درج ہوں۔ اگر کوئی ایجنٹ معاہدہ دینے سے گریز کرے یا صرف زبانی وعدوں پر زور دے تو اس سے محتاط رہنا چاہیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ادائیگی ہمیشہ محفوظ اور قابلِ ریکارڈ طریقوں سے کرنی چاہیے اور ممکن ہو تو فلائٹ یا ہوٹل کی بکنگ کی تصدیق خود بھی کر لینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص فراڈ کا شکار ہو جائے تو فوری طور پر ایف آئی اے (Federal Investigation Agency) میں شکایت درج کروانا ضروری ہے تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp