سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ چند برس قبل ایک خلائی تجربے کے دوران خلائی جہاز کے ٹکرانے سے ایک سیارچے کے سورج کے گرد مدار میں معمولی مگر اہم تبدیلی واقع ہوئی ہے، جس سے مستقبل میں زمین کو ممکنہ خطرناک سیارچوں سے بچانے کی نئی امید پیدا ہو گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی خلائی جسم کے سورج کے گرد گردش کے راستے کو جان بوجھ کر تبدیل کیا گیا ہے۔ ناسا کے ڈارٹ مشن کے تحت 2022 میں خلائی جہاز کو جان بوجھ کر ڈیمورفوس نامی سیارچے سے ٹکرایا گیا تھا، تاہم یہ سیارچہ کبھی زمین کے لیے خطرہ نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پراسرار سیارچہ خلائی مخلوق کا بھیجا گیا کوئی مشن ہوسکتا ہے، ہارورڈ کے سائنسدان کا دعویٰ
تحقیقی ٹیم کے مطابق اس تصادم کے نتیجے میں سیارچے کی سورج کے گرد گردش میں انتہائی معمولی تبدیلی آئی۔ ماہرین نے بتایا کہ اس تبدیلی کے باعث اس کے مدار کے دورانیے میں تقریباً 0.15 سیکنڈ کی کمی واقع ہوئی اور اس کے مدار کی لمبائی تقریباً 720 میٹر کم ہو گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ تبدیلی بہت معمولی محسوس ہوتی ہے، مگر اگر کسی خطرناک سیارچے کو کئی سال پہلے اسی طرح معمولی دھکا دیا جائے تو وقت کے ساتھ اس کا راستہ اتنا بدل سکتا ہے کہ وہ زمین سے ٹکراؤ سے بچ جائے۔
تحقیق کے مطابق تصادم کے دوران سیارچے سے بڑی مقدار میں چٹانیں اور گردوغبار خارج ہوا، جس نے خلائی جہاز کے ساتھ مل کر اضافی دھکا فراہم کیا اور اس عمل سے رفتار میں مزید تبدیلی آئی۔ اندازوں کے مطابق تقریباً 16 ملین کلوگرام ملبہ خلا میں پھیل گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: چاند سے ٹکرانے والا سیارچہ کس قدر نقصان پہنچا سکتا ہے؟
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس تجربے سے حاصل ہونے والا ڈیٹا مستقبل کے سیارچہ دفاعی مشنز کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا۔ یورپی خلائی ایجنسی کا ہیرا نامی خلائی جہاز بھی آئندہ مشاہدے کے لیے ان سیارچوں تک پہنچنے والا ہے، جہاں وہ اس تصادم کے اثرات کا مزید تفصیلی جائزہ لے گا۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں یہ سیارچے زمین کے لیے کسی خطرے کا باعث نہیں ہیں اور آنے والے وقت میں بھی ان کا زمین سے ٹکراؤ متوقع نہیں۔














