وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان کے نام نہاد نائب ترجمان کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بیان پاکستان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا اور اپنی کارروائیوں کو چھپانے کی کوشش ہے۔
وزارتِ اطلاعات کے فیکٹ چیک کے مطابق 15 مارچ 2026 کو افغان طالبان کی جانب سے خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ کے علاقے سالارزئی کی بستی تبستہ لیٹئی میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں 4 بے گناہ شہری شہید جبکہ ایک 5 سالہ بچہ شدید زخمی ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیے: افغان طالبان کا باجوڑ میں شہریوں پر حملہ، 4 بھائی شہید، بچہ شدید زخمی
حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کی کارروائیوں کے بارے میں ہمیشہ عوام کو واضح اور شفاف انداز میں آگاہ کیا جاتا ہے۔ 14 اور 15 مارچ کی درمیانی شب قندھار میں صرف دہشتگردوں کے ٹھکانوں، انفراسٹرکچر اور تکنیکی آلات کو نشانہ بنایا گیا تھا، جن کے مناظر اور ویڈیوز بھی جاری کی جا چکی ہیں۔
🔎 Fact Check | Ministry of Information & Broadcasting
◼️ The claim by so called Deputy Spokesperson of Afghan Taliban regime is yet again a poor attempt to cover up their own heinous targeting of civilian population along Pak-Afghan Border and to befool its own citizens… pic.twitter.com/Ae8nWXZcSY
— Fact Checker MoIB (@FactCheckerMoIB) March 15, 2026
بیان کے مطابق پاکستان افغان طالبان کی طرح پرانی، جعلی یا مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر اور ویڈیوز پر انحصار نہیں کرتا۔ افغان طالبان کے سرکاری ذرائع سے بار بار جھوٹے بیانات اور گمراہ کن معلومات جاری کی جا رہی ہیں، جس سے انہیں اندرونِ ملک اور عالمی سطح پر سبکی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
وزارتِ اطلاعات نے اپنی ایکس پوسٹ میں کہا ہے کہ سچ ہمیشہ جھوٹ پر غالب آتا ہے۔













