بنگلہ دیش پولیس نے سنہ 2014 سے 2024 کے دوران پولیس کانسٹیبلز کی بھرتیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں، بدعنوانی اور سیاسی اثر و رسوخ کے الزامات کے بعد ملک بھر میں تحقیقات کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان نے نہریں کھودنے کے ملک گیر منصوبے کا آغاز کر دیا
میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش کے نئے تعینات ہونے والے انسپکٹر جنرل آف پولیس ایم ڈی علی حسین فکیر کی جانب سے جاری کردہ سرکاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ بھرتی کے عمل میں ممکنہ بے ضابطگیوں کی جانچ کے لیے ضلعی سطح پر کمیٹیاں قائم کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق گزشتہ دس برسوں کے دوران تقریباً 70 ہزار کانسٹیبلز پولیس فورس میں شامل ہوئے۔
پولیس ہیڈکوارٹرز کے مطابق ہر ضلع میں سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کی سربراہی میں قائم کمیٹیاں بھرتیوں کے طریقہ کار سے متعلق موصول ہونے والی شکایات کا جائزہ لیں گی اور اپنی رپورٹس 15 اپریل 2026 تک ہیڈکوارٹرز کو جمع کرائیں گی۔
تحقیقات کے دوران ان الزامات کا بھی جائزہ لیا جائے گا کہ بعض امیدواروں نے ضلعی کوٹے سے فائدہ اٹھانے کے لیے جعلی رہائشی پتے استعمال کیے جبکہ کچھ امیدواروں کو تحریری اور زبانی امتحانات کے دوران خصوصی رعایت دی گئی۔
مزید پڑھیے: بنگلہ دیش: ایک لاکھ افراد کے لیے افطاری تیار کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی دیگ نصب
مزید برآں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ آیا امیدواروں یا ان کے اہل خانہ کی سیاسی وابستگیوں نے بھرتی کے فیصلوں کو متاثر کیا یا نہیں۔ اس سلسلے میں ایسے کیسز کا بھی جائزہ لیا جائے گا جن میں کم تحریری نمبروں کے باوجود امیدواروں نے مبینہ طور پر زبانی امتحان میں غیر معمولی زیادہ نمبر حاصل کرکے ملازمت حاصل کی۔
تحقیقات میں سوالیہ پرچوں کے مبینہ لیک ہونے، بھرتی کے عمل میں مبینہ دلالوں کے کردار اور امتحانات کے دوران پولیس اہلکاروں کی ممکنہ بدانتظامی کے الزامات کی بھی چھان بین کی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا فیصلہ عوامی لیگ حکومت کے دور میں بھرتیوں سے متعلق بار بار سامنے آنے والی شکایات کے بعد کیا گیا ہے، جن میں سیاسی سفارشات کے ذریعے بھرتی فہرستوں پر اثر انداز ہونے اور میرٹ کے باوجود بعض امیدواروں کو انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر مسترد کرنے کے الزامات شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کے سیاحتی شہر کوکس بازار میں عید کی چھٹیوں سے قبل ہوٹل بکنگ میں ریکارڈ اضافہ
پولیس حکام کے مطابق اس تحقیقات کا مقصد پولیس فورس میں بھرتیوں کے عمل کو شفاف اور جوابدہ بنانا ہے۔














