امریکی مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کمپنی اینتھروپک نے اپنے سافٹ ویئر کے ممکنہ خطرناک استعمال کو روکنے کے لیے کیمیائی ہتھیاروں اور طاقتور دھماکہ خیز مواد کے ماہر کو بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صحافی نے بڑے چیٹ بوٹس کو غلط معلومات دینے پر مجبور کر دیا، کیسے اور مقصد کیا تھا؟
کمپنی کو خدشہ ہے کہ اس کے اے آئی ٹولز غلط استعمال کے ذریعے لوگوں کو کیمیائی یا تابکار ہتھیار بنانے کے طریقے بتا سکتے ہیں، جسے روکنے کے لیے وہ اپنی سیکیورٹی مزید مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
لنکڈ اِن پر جاری کردہ اشتہار کے مطابق امیدوار کے پاس کم از کم 5 سال کا تجربہ کیمیائی ہتھیاروں یا دھماکہ خیز مواد کے دفاع میں ہونا چاہیے جبکہ اسے ریڈیولوجیکل ڈسپرسل ڈیوائسز یعنی ڈرٹی بم کے بارے میں بھی معلومات ہونی چاہییں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ عہدہ ان دیگر حساس شعبوں کی ملازمتوں جیسا ہی ہے جو پہلے ہی قائم کی جا چکی ہیں۔
اوپن اے آئی کی بھی لاکھوں ڈالر والی ملازمت کی پیشکش
یہ حکمت عملی صرف اینتھروپک تک محدود نہیں۔ اے آئی چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی کی مالک کمپنی اوپن اے آئی نے بھی حیاتیاتی اور کیمیائی خطرات کے محقق کے لیے ملازمت کا اعلان کیا ہے جس کی تنخواہ 4 لاکھ 55 ہزار ڈالر تک ہو سکتی ہے جو اینتھروپک کی پیشکش سے تقریباً دگنی ہے۔
تاہم بعض ماہرین اس رجحان پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی ریسرچر ڈاکٹر اسٹیفنی ہیئر کے مطابق سوال یہ ہے کہ کیا اے آئی کو حساس کیمیائی اور دھماکہ خیز معلومات سنبھالنے کے لیے استعمال کرنا واقعی محفوظ ہے؟
ان کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے کوئی عالمی معاہدہ یا ضابطہ موجود نہیں اور یہ تمام کام نظروں سے اوجھل ہو رہا ہے۔
اے آئی انڈسٹری پہلے ہی خبردار کر چکی ہے کہ اس ٹیکنالوجی میں انسانی وجود کے لیے خطرات موجود ہیں لیکن اس کی ترقی کو سست کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔
یہ معاملہ اس وقت مزید اہم ہو گیا ہے جب امریکی حکومت جنگی حالات میں اے آئی کمپنیوں سے تعاون طلب کر رہی ہے۔
دوسری جانب اینتھروپک نے امریکی محکمہ دفاع کے خلاف قانونی کارروائی بھی شروع کر دی ہے جس نے کمپنی کو سپلائی چین رسک قرار دیا تھا کیونکہ کمپنی نے اپنے سسٹمز کو خودکار ہتھیاروں اور عوامی نگرانی میں استعمال کی اجازت دینے سے انکار کیا تھا۔
مزید پڑھیے: چیٹ بوٹ سے محبت: خاتون کو مشینی محبوب کی رخصتی کا خوف
کمپنی کے شریک بانی داریو امودی کا کہنا ہے کہ موجودہ اے آئی ٹیکنالوجی ابھی اس سطح پر نہیں پہنچی کہ اسے ایسے حساس مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔














