عیدالفطر کی تعطیلات کے اختتام کے ساتھ ہی ملک کی اعلیٰ عدلیہ، وفاقی آئینی عدالت، سپریم کورٹ آف پاکستان اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہائی پروفائل سیاسی مقدمات کی سماعت دوبارہ شروع ہونے جا رہی ہے۔ متعدد اہم کیسز یا تو التوا کا شکار رہے یا ابتدائی سماعت کے بعد مؤخر کیے گئے، جس کے باعث اب عید کے بعد ایک بھرپور عدالتی سرگرمی متوقع ہے۔
ذیل میں اہم مقدمات کو یکجا، جامع اور عدالت کے تعین کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: یوسف رضا گیلانی تمام مقدمات سے بری، کیا سیاسی مقدمات کی روک تھام کا وقت آ گیا؟
عمران خان: جیل سہولیات اور طبی علاج کیس
متعلقہ عدالت: سپریم کورٹ آف پاکستان، اسلام آباد ہائیکورٹ
اب تک کیا ہوا:
سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے جیل میں طبی سہولیات کی فراہمی اور اسپتال منتقلی کے لیے درخواستیں دائر کی گئیں۔ سپریم کورٹ نے میڈیکل بورڈ بنانے کی ہدایت دی جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی اس معاملے پر متعدد سماعتیں ہوئیں، تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے میڈیکل بورڈ بنانے کے احکامات کے ساتھ سماعت ملتوی کر دی تھی۔
عید کے بعد متوقع پیش رفت یہ ہے کہ میڈیکل رپورٹ کی بنیاد پر عدالت علاج، جیل سہولیات یا ممکنہ ریلیف (جیسے اسپتال منتقلی) سے متعلق واضح احکامات جاری کر سکتی ہے۔
عمران خان کی جیل اور طِبی سہولیات سے متعلق معاملہ دراصل مختلف درخواستوں کی صورت میں 2024 کے وسط سے سپریم کورٹ کے سامنے ہے، جب انہوں نے جیل میں قیدِ تنہائی، وکلا اور اہلِ خانہ سے محدود ملاقات اور طبی سہولیات کی کمی کی شکایات اٹھائیں۔ مئی 2024 میں انہوں نے خود عدالتِ عظمیٰ کے سامنے پیش ہو کر ان حالات کی نشاندہی کی، جس کے بعد عدالت نے حکومت سے رپورٹس طلب کیں اور بعد ازاں طبی معائنے اور سہولیات کی فراہمی سے متعلق ہدایات بھی جاری کیں۔
2025 کے آخر اور 2026 کے آغاز میں اس معاملے نے دوبارہ شدت اختیار کی جب خاندان اور پارٹی نے ملاقاتوں اور علاج میں رکاوٹوں کی شکایات کیں، جس پر سپریم کورٹ نے فون رسائی اور میڈیکل چیک اپ جیسے اقدامات کی ہدایات دیں۔
حالیہ پیش رفت کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہسپتال منتقلی سے متعلق درخواست کی سماعت کی گئی اور عدالت نے فوری طور پر ہسپتال منتقلی کی درخواست مسترد کر دی تاہم میڈیکل بورڈ بنانے کی ہدایات جاری کردی تھیں۔ عید کے بعد اس معاملے کی دوبارہ سماعت متوقع ہے۔
القادر ٹرسٹ، 190 ملین پاؤنڈ کیس
اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیرِ التوا اس مقدمے میں اب تک یہ ہوا ہے کہ احتساب عدالت سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان اور بشریٰ بی بی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیلیں دائر کیں۔
سزا معطلی اور ضمانت کی درخواستیں زیرِ سماعت ہیں۔ عید کے بعد ان اپیلوں پر باقاعدہ سماعت شروع ہونے کا امکان ہے، جبکہ عدالت ابتدائی طور پر سزا معطلی یا ضمانت پر فیصلہ دے سکتی ہے۔ القادر ٹرسٹ (190 ملین پاؤنڈ) کیس اس وقت اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کے مرحلے میں ہے جہاں عمران خان اور بشریٰ بی بی نے احتساب عدالت کی سزاؤں کے خلاف اپیلیں دائر کر رکھی ہیں، جبکہ اس کے ساتھ سزا معطلی (suspension of sentence) اور جلد سماعت کی درخواستیں بھی زیرِ غور رہی ہیں۔
فروری 2026 میں عدالت نے سزا معطلی کی درخواست کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے کیس کو فکس کیا اور وکلا کو تکنیکی اعتراضات دور کرنے کا وقت دیا، تاہم اس دوران کیس بارہا تاخیر کا شکار رہا اور ایک موقع پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی بھی ہوئی، جبکہ 11 مارچ کے قریب اس کی سماعت مقرر کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ہائیکورٹ میں بنیادی طور پر تین چیزیں زیرِ سماعت ہیں: (1) سزا کے خلاف اپیلیں، (2) سزا معطلی، ضمانت کی درخواستیں، اور (3) جلد سماعت کی درخواستیں۔ عید کے بعد توقع ہے کہ عدالت اس کیس کو باقاعدہ اور مسلسل سماعت کے لیے مقرر کرے گی جہاں پہلے مرحلے میں سزا معطلی یا ضمانت پر فیصلہ آ سکتا ہے، جبکہ بعد ازاں اپیلوں پر تفصیلی دلائل سن کر کیس کے میرٹ پر فیصلہ دیا جائے گا۔
توشہ خانہ کیس
متعلقہ عدالت: اسلام آباد ہائیکورٹ، سپریم کورٹ (ممکنہ اپیل)
اب تک کیا ہوا: ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے بعد کیس ہائیکورٹ میں چلا گیا جہاں نااہلی اور سزا کے خلاف اپیلیں دائر ہوئیں۔ سماعتوں میں وقفے بھی آئے۔
عید کے بعد متوقع پیشرفت:
اسلام آباد ہائیکورٹ اس کیس کو تیزی سے سن سکتی ہے، جبکہ کسی بھی فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کا امکان موجود ہے۔ اب تک عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ کیس کا فیصلہ ہوچکا ہے اور وہ عدالت سے سزا یافتہ ہیں۔ ایف آئی اے اسپیشل عدالت نے توشہ خانہ ٹو کیس میں دونوں کو 17،17 سال قید اور فی کس قریباً 1.64 کروڑ روپے جرمانہ کی سزا سنائی ہے۔
یہ فیصلہ دسمبر 2025 میں سنایا گیا، اب وہ اپیل کے مراحل میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج ہے۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکلا سزا کے خلاف اپیل دائر کرچکے ہیں اور کیس عدالت عالیہ میں زیرالتوا ہے، عید کے بعد بھی اپیل کی سماعت کا کوئی حتمی شیڈول باقاعدہ اعلان نہیں ہوا لیکن عید کے بعد سماعت متوقع ہے۔
9 مئی واقعات کیسز
یہ مقدمات سپریم کورٹ، اسلام آباد ہائیکورٹ، ٹرائل کورٹس میں زیرِ التواء ہیں۔
اب تک کیا ہوا: متعدد پی ٹی آئی رہنماؤں کو سزائیں سنائی گئیں، ایم این ایز اور ایم پی ایز نااہل ہوئے اور کئی اپیلیں دائر ہوئیں۔ قید رہنماؤں نے سپریم کورٹ سے جلد سماعت کی درخواست بھی کی۔
عید کے بعد متوقع پیش رفت:
سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس اپیلوں کو ترجیحی بنیادوں پر سن سکتی ہیں، جبکہ ضمانت اور سزا معطلی کے اہم فیصلے متوقع ہیں۔ 9 مئی 2023 کے واقعات سے متعلق مقدمات اس وقت مختلف عدالتوں خصوصاً انسدادِ دہشتگردی عدالتوں، ہائیکورٹس اور جزوی طور پر سپریم کورٹ میں بیک وقت زیرِ سماعت ہیں، جن کی نوعیت بھی مختلف ہے۔
ٹرائل لیول پر زیادہ تر کیسز اے ٹی سیز میں چل رہے ہیں جہاں بعض مقدمات میں سزائیں بھی سنائی جا چکی ہیں جبکہ کئی کیسز میں ثبوتوں کی کمی یا ضمنی چالان کے ذریعے کچھ ملزمان کے نام نکالنے جیسے معاملات سامنے آ رہے ہیں۔
اپیلوں کا مرحلہ اس وقت لاہور ہائیکورٹ اور دیگر ہائیکورٹس میں زیرِ التوا ہے جہاں سزاؤں کے خلاف اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں کافی عرصے سے سماعت کی منتظر ہیں، جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں بنیادی طور پر آئینی نوعیت کے معاملات مثلاً سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل پر پہلے فیصلے ہو چکے ہیں اور اس سے متعلق اثرات ابھی بھی زیر بحث ہیں۔
عید کی چھٹیوں کے بعد متوقع پیش رفت میں اے ٹی سیز میں گواہوں کے بیانات اور مزید ٹرائل آگے بڑھنے، ہائیکورٹس میں زیر التوا اپیلوں کی سماعت تیز ہونے اور کچھ اہم کیسز میں ضمانت یا سزا معطلی سے متعلق فیصلوں کے امکانات شامل ہیں، جبکہ مجموعی طور پر یہ مقدمات ابھی طویل قانونی عمل کے مرحلے میں ہیں اور مختلف فورمز پر متوازی طور پر چل رہے ہیں۔
مخصوص نشستوں کے مقدمات
موجودہ صورتحال کو اگر ٹھیک طرح سمجھا جائے تو مخصوص نشستوں کا مرکزی آئینی کیس تو سپریم کورٹ آف پاکستان میں نظر ثانی فیصلے کے بعد نمٹ چکا ہے لیکن اس کے اثرات، عملدرآمد اور نشستوں کی تقسیم سے متعلق کئی ذیلی مقدمات اب بھی زیرِ التوا ہیں، خاص طور پر ہائیکورٹس میں۔
ہائیکورٹس خصوصاً پشاور ہائیکورٹ اور لاہور ہائیکورٹ میں مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ، نوٹیفکیشنز کے خلاف درخواستیں زیر سماعت ہیں۔ کچھ کیسز میں منتخب ارکان کی حلف برداری روکنے یا معطل کرنے سے متعلق درخواستیں زیرِ سماعت ہیں۔ پارٹی وابستگی (آزاد ارکان کا پی ٹی آئی یا سنی اتحاد کونسل سے تعلق) سے جڑے تنازعات، اور یہ مقدمات دراصل سپریم کورٹ کے فیصلے کے عملدرآمد تنازعات ہیں اور ابھی مکمل طور پر طے نہیں ہوئے۔
اسی طرح سے الیکشن کمیشن سے متعلق کیسز مثلاً الیکشن کمیشن آف پاکستان کے نوٹیفکیشنز اور نشستوں کی نئی تقسیم کے خلاف درخواستیں اور مخصوص نشستوں کی دوبارہ تقسیم پر قانونی اعتراضات کے حوالے سے درخواستیں بھی زیرِ التوا ہیں۔
عید کے بعد متوقع پیش رفت:
عید تعطیلات کے بعد زیادہ سرگرمی ہائیکورٹس میں نظر آئے گی، جہاں زیرِ التوا درخواستوں کو سماعت کے لیے مقرر کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر وہ کیسز جن میں نشستوں کی الاٹمنٹ یا حلف برداری روکی گئی تھی۔
علیمہ خان کیس
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے خلاف اس وقت جو مرکزی مقدمہ چل رہا ہے وہ بنیادی طور پر اسلام آباد، راولپنڈی میں ہونے والے احتجاج (ڈی چوک 26 نومبر احتجاج کیس) سے متعلق ہے، جسے انسدادِ دہشتگردی عدالت راولپنڈی میں ٹرائل کیا جا رہا ہے۔
اس کیس میں ان پر الزام ہے کہ وہ احتجاج اور ہنگامہ آرائی سے متعلق سرگرمیوں میں شریک تھیں، اسی بنیاد پر ان کے خلاف مقدمہ درج ہوا اور ٹرائل جاری ہے۔
اب تک کی پیشرفت یہ ہے کہ عدالت ان کی بریت کی درخواست مسترد کر چکی ہے اور کیس باقاعدہ ٹرائل کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جبکہ بعض مواقع پر عدالت نے ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ بھی جاری کیے اور بعد میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں بھی منظور ہوتی رہی ہیں۔
حالیہ پیشرفت میں عدالت نے انہیں ایک روزہ حاضری سے استثنیٰ دیتے ہوئے کیس کی سماعت 30 مارچ 2026 تک ملتوی کی ہے اور آئندہ سماعت پر گواہ کے بیان پر جرح ہونا باقی ہے۔
عید کے بعد متوقع پیش رفت یہ ہے کہ کیس میں ٹرائل تیز ہوگا، خاص طور پر گواہوں کے بیانات مکمل کیے جائیں گے اور وکلا کی جرح آگے بڑھے گی، جس کے بعد یا تو فردِ جرم کے بعد شواہد کا مرحلہ مکمل ہوگا یا کیس فیصلہ کن مرحلے حتمی دلائل کی طرف جائےگا۔
مجموعی طور پر یہ مقدمہ ابھی ابتدائی یا درمیانی ٹرائل اسٹیج میں ہے اور فی الحال کسی اپیل یا ہائیکورٹ، سپریم کورٹ میں بڑا مرحلہ زیرِ سماعت نہیں، البتہ آئندہ کسی بھی عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کا دروازہ کھلا ہوگا۔
جسٹس طارق محمود جہانگیری کا ڈگری تنازع
اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کے ڈگری کے معاملے میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے دسمبر 2025 میں طے کیاکہ ان کی قانون کی ڈگری معتبر نہ ہونے کی وجہ سے ان کی تقرری غیر قانونی ہے اور وہ ہائیکورٹ جج کے عہدے پر برقرار نہیں رہ سکتے اور حکومت نے صدر کی منظوری کے ساتھ ان کو ڈی نوٹیفائی کردیا تھا۔
اس فیصلے کے بعد جسٹس جہانگیری نے وفاقی آئینی عدالت میں ہائیکورٹ کے اس حکم کو چیلنج کر رکھا ہے اور وہ عدالت سے یہ حکم منسوخ کرنے، اصل درخواست (جو ان کی ڈگری کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرتی ہے) کو ناقابل سماعت قرار دینے، اور متعلقہ کارروائیوں کو روکے جانے کی استدعا کررہے ہیں۔
آخری بڑی سماعت، کارروائی دسمبر 2025 تک ہوئی جب ہائیکورٹ نے فیصلہ جاری کیا اور بعد ازاں جسٹس جہانگیری نے اُس فیصلے کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کیا، اب تک وفاقی آئینی عدالت میں یہ درخواست سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوئی عید کے بعد متوقع طور پر ہو سکتی ہے۔
انتخابی تنازعات یا انتخابی عذرداریاں
ہائیکورٹس میں بڑی تعداد میں کیسز زیر سماعت ہیں جن میں انتخابی نتائج کو چیلنج کرنا، نوٹیفکیشنز کے خلاف درخواستیں، امیدواروں کی نااہلی، اہلیت اور حلف برداری کے تنازعات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ الیکشن ٹربیونلز بھی متعدد حلقوں میں انتخابی عذرداریاں سن رہے ہیں، تاہم ان کے فیصلے اکثر ہائیکورٹس میں چیلنج ہو جاتے ہیں جس سے قانونی عمل مزید طویل ہو جاتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت کے قیام، دائرہ اختیار سے متعلق بھی کچھ آئینی سوالات زیرِ بحث رہے ہیں، جو مستقبل میں انتخابی تنازعات کے فورم کو متاثر کر سکتے ہیں۔
عید کے بعد متوقع پیشرفت میں سب سے زیادہ سرگرمی ہائیکورٹس اور الیکشن ٹربیونلز میں متوقع ہے، جہاں زیرِ التوا درخواستوں کی تیز سماعت، اسٹے آرڈرز کا خاتمہ یا برقرار رہنا، اور بعض حلقوں کے نتائج سے متعلق اہم فیصلے آ سکتے ہیں۔
سپریم کورٹ میں اگرچہ بڑے کیسز محدود ہیں، لیکن کسی بھی اہم ہائیکورٹ فیصلے کے خلاف اپیل فوری طور پر وہاں پہنچ سکتی ہے، جبکہ آئینی نوعیت کے نئے سوالات مثلاً الیکشن کمیشن کے اختیارات یا نشستوں کی تقسیم دوبارہ سپریم کورٹ یا وفاقی آئینی عدالت میں اٹھائے جانے کا امکان برقرار ہے۔
دس ارب ہرجانہ کیس
شہباز شریف اور عمران خان کے درمیان 10 ارب روپے ہرجانہ ہتکِ عزّت کیس دراصل 2017 کا ایک سول مقدمہ ہے، جو شہباز شریف نے اس الزام پر دائر کیا تھا کہ عمران خان نے ایک ٹی وی پروگرام میں یہ دعویٰ کیاکہ انہیں پاناما کیس واپس لینے کے لیے 10 ارب روپے کی پیشکش کی گئی، جسے شہباز شریف نے جھوٹا اور ہتک آمیز قرار دیا۔
اب تک کی تازہ پیش رفت یہ ہے کہ یہ کیس اصل میں لاہور کی ٹرائل کورٹ میں چل رہا تھا، لیکن فروری 2026 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو عارضی طور پر روک کر حکم امتناع جاری کرکے روک دیا اور عمران خان کی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کیے۔
اس سے پہلے ٹرائل کورٹ عمران خان کا حقِ دفاع ختم کر چکی تھی، جسے لاہور ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا، اور اسی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ مارچ 2026 تک صورتحال یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے اس اسٹے کو برقرار رکھا ہوا ہے اور کیس بنیادی طور پر سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت پروسیجرل یا قانونی نقاط سے متعلق ہے، جبکہ ٹرائل کورٹ میں کارروائی رکی ہوئی ہے۔
عید کے بعد متوقع پیش رفت:
امکان یہی ہے کہ سپریم کورٹ اس کیس میں عمران خان کے حقِ دفاع بحال کرنے یا نہ کرنے سے متعلق فیصلہ دے گی۔ اگر عدالت دفاع کا حق بحال کر دیتی ہے تو کیس دوبارہ لاہور کی ٹرائل کورٹ میں باقاعدہ ٹرائل کے مرحلے میں جائے گا، اور اگر فیصلہ برقرار رہتا ہے تو کیس نسبتاً تیزی سے حتمی دلائل اور فیصلے کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے اس مقدمے کی اصل سمت کا تعین اب مکمل طور پر سپریم کورٹ کے آئندہ حکم پر منحصر ہے۔
چوہدری شوگر ملز کیس
چوہدری شوگر ملز کیس دراصل قومی احتساب بیورو کی جانب سے منی لانڈرنگ اور مشتبہ مالی لین دین کی انکوائری تھی، جس میں مریم نواز اور نواز شریف سمیت دیگر افراد نامزد تھے۔
تازہ پیش رفت کے مطابق احتساب عدالت لاہور نے نیب کی درخواست منظور کرتے ہوئے اس کیس کی تحقیقات بند کرنے کی حتمی منظوری دے دی ہے کیونکہ تفتیش میں کرپشن یا بدعنوانی کے ٹھوس شواہد سامنے نہیں آئے۔
اس سے پہلے لاہور ہائیکورٹ نے انکوائری ختم ہونے کے بعد کچھ قانونی نکات (جیسے منظوری کا طریقہ اور ضمانتی رقم کی واپسی) پر ہدایات دی تھیں، جسے نیب نے چیلنج کرتے ہوئے معاملہ وفاقی آئینی عدالت، سپریم کورٹ میں اٹھایا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ چیئرمین نیب کو انکوائری ختم کرنے کا مکمل اختیار ہے۔
اس وقت کیس کا مرکزی حصہ (انکوائری) عملاً ختم ہو چکا ہے جبکہ قانونی تنازع اب ہائیکورٹ کے فیصلے اور اختیارِ سماعت کی تشریح تک محدود ہوگیا ہے۔ عید کے بعد متوقع پیش رفت یہ ہے کہ اعلیٰ عدالت میں نیب کی اپیل پر سماعت آگے بڑھے گی، جہاں یہ طے ہوگا کہ انکوائری ختم کرنے کے اختیار اور اس کے عدالتی جائزے کی حدود کیا ہیں، تاہم بنیادی کرپشن کیس کے دوبارہ کھلنے کے امکانات فی الحال کم دکھائی دیتے ہیں۔
مجموعی تجزیہ
عید کے بعد عدالتوں میں زیرِ سماعت مقدمات واضح طور پر تین بڑے زمروں میں تقسیم ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: سیاسی روزہ رکھا ہے، پتا ہے کب کھولنا ہے‘ شیخ رشید کی 9 مئی مقدمات میں پیشی کے بعد گفتگو’
سیاسی و کرپشن کیسز (خصوصاً عمران خان اور دیگر بڑی سیاسی شخصیات)، آئینی نوعیت کے اہم مقدمات جیسا کہ ہرجانہ اور ساکھ سے متعلق کیسز اور تیسرے انتخابی عذرداریاں۔
عید کے بعد کا عدالتی مرحلہ پاکستان کی سیاست، احتسابی نظام اور آئینی ڈھانچے کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہونے والی یہ سماعتیں نہ صرف سیاسی قیادت بلکہ ریاستی اداروں کے درمیان توازن، احتساب کے عمل اور عوامی اعتماد کے مستقبل کا بھی تعین کریں گی۔














