افغانستان میں طالبان کی پالیسیوں اور سزاؤں کے حوالے سے عالمی اور علاقائی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے، جہاں ایک تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران 1,186 سے زائد افراد کو سرعام کوڑے مارے گئے جبکہ کم از کم 6 افراد کو مختلف صوبوں میں سرعام سزائے موت دی گئی۔
دوسری جانب پاکستانی سیکیورٹی ماہرین نے طالبان پر دہشت گرد گروہوں کو پالیسی کے طور پر استعمال کرنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
For years, the rights of women and girls in Afghanistan have been steadily eroded by the Taliban. Now, that repression is about to get worse through a new Criminal Regulation that further restricts Afghan women and girls' access to justice, equality, and autonomy.
The Taliban… pic.twitter.com/4YTJyL48bi
— Amnesty International South Asia, Regional Office (@amnestysasia) March 16, 2026
افغان میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق، افغانستان میں طالبان حکومت کے تحت گزشتہ ایک سال (مارچ 2025 سے مارچ 2026) کے دوران مجموعی طور پر 1,186 افراد کو کوڑے مارے گئے جبکہ کم از کم 6 افراد کو سرعام سزائے موت دی گئی۔
یہ سزائیں ملک کے مختلف صوبوں میں نافذ کی گئیں، جن میں کابل، ہرات، بلخ، قندھار، ننگرہار اور دیگر علاقے شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اقوام متحدہ کا پاک فوج کی فتنہ الخوارج اور طالبان رجیم کے خلاف کارروائیوں میں عارضی وقفے کا خیرمقدم
رپورٹ کے مطابق ان سزاؤں میں خواتین بھی شامل تھیں، اور تقریباً 100 خواتین کو مختلف اوقات میں سرعام کوڑوں کی سزا دی گئی۔ انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سزائیں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں اور معاشرے میں خوف کی فضا پیدا کرتی ہیں۔
ادھر سابق میجر جنرل (ر) انعام الحق نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ طالبان مبینہ طور پر دہشتگرد تنظیموں کو اپنی پالیسی کے ایک آلے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، جو ایک خطرناک رجحان ہے۔
Afghan Taliban have gravitated towards using Fitna-Al-Khawarij as a tool of their policy which is a dangerous thing, says Maj Gen (R) Inam Ul Haq#Afghanistan #AfghanTaliban #RegionalSecurity #CounterTerrorism #SecurityAnalysis #PakistanTV #PakistanTvglobal pic.twitter.com/4RnieEgYkS
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) March 22, 2026
ان کے مطابق پاکستان گزشتہ ساڑھے 4 سال سے طالبان کے ساتھ مذاکرات اور روابط برقرار رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے، تاہم اب صورتحال تشویشناک رخ اختیار کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں سرگرم مختلف گروہ اور دہشتگرد تنظیمیں نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔ ان کے مطابق بعض رپورٹس اور اقوام متحدہ کی اطلاعات بھی اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ افغانستان ایک بار پھر خطے میں دہشت گردی کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان عام شہریوں کو بطور ہیومن شیلڈ استعمال کر رہے ہیں، خواجہ محمد آصف
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ طالبان حکومت نے ایک نیا تعزیراتی قانون متعارف کرایا ہے، جس پر عالمی سطح پر شدید تنقید کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اختلاف رائے رکھنے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جن میں قید اور کوڑوں کی سزائیں شامل ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکنوں اور بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی یہ پالیسیاں افغانستان کو مزید تنہائی کی طرف لے جا رہی ہیں اور خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہیں، جبکہ طالبان اپنے اقدامات کو اسلامی شریعت کے نفاذ کے طور پر درست قرار دیتے ہیں۔














