افغانستان: 100 خواتین سمیت 1200 سے زائد افراد کو سرعام کوڑوں اور سزائے موت پر عالمی سطح پر تشویش

اتوار 22 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغانستان میں طالبان کی پالیسیوں اور سزاؤں کے حوالے سے عالمی اور علاقائی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے، جہاں ایک تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران 1,186 سے زائد افراد کو سرعام کوڑے مارے گئے جبکہ کم از کم 6 افراد کو مختلف صوبوں میں سرعام سزائے موت دی گئی۔

دوسری جانب پاکستانی سیکیورٹی ماہرین نے طالبان پر دہشت گرد گروہوں کو پالیسی کے طور پر استعمال کرنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

افغان میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق، افغانستان میں طالبان حکومت کے تحت گزشتہ ایک سال (مارچ 2025 سے مارچ 2026) کے دوران مجموعی طور پر 1,186 افراد کو کوڑے مارے گئے جبکہ کم از کم 6 افراد کو سرعام سزائے موت دی گئی۔

یہ سزائیں ملک کے مختلف صوبوں میں نافذ کی گئیں، جن میں کابل، ہرات، بلخ، قندھار، ننگرہار اور دیگر علاقے شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اقوام متحدہ کا  پاک فوج کی فتنہ الخوارج اور طالبان رجیم کے خلاف کارروائیوں میں عارضی وقفے کا خیرمقدم

رپورٹ کے مطابق ان سزاؤں میں خواتین بھی شامل تھیں، اور تقریباً 100 خواتین کو مختلف اوقات میں سرعام کوڑوں کی سزا دی گئی۔ انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سزائیں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں اور معاشرے میں خوف کی فضا پیدا کرتی ہیں۔

ادھر سابق میجر جنرل (ر) انعام الحق نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ طالبان مبینہ طور پر دہشتگرد تنظیموں کو اپنی پالیسی کے ایک آلے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، جو ایک خطرناک رجحان ہے۔

ان کے مطابق پاکستان گزشتہ ساڑھے 4 سال سے طالبان کے ساتھ مذاکرات اور روابط برقرار رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے، تاہم اب صورتحال تشویشناک رخ اختیار کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں سرگرم مختلف گروہ اور دہشتگرد تنظیمیں نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔ ان کے مطابق بعض رپورٹس اور اقوام متحدہ کی اطلاعات بھی اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ افغانستان ایک بار پھر خطے میں دہشت گردی کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان عام شہریوں کو بطور ہیومن شیلڈ استعمال کر رہے ہیں، خواجہ محمد آصف

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ طالبان حکومت نے ایک نیا تعزیراتی قانون متعارف کرایا ہے، جس پر عالمی سطح پر شدید تنقید کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اختلاف رائے رکھنے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جن میں قید اور کوڑوں کی سزائیں شامل ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکنوں اور بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی یہ پالیسیاں افغانستان کو مزید تنہائی کی طرف لے جا رہی ہیں اور خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہیں، جبکہ طالبان اپنے اقدامات کو اسلامی شریعت کے نفاذ کے طور پر درست قرار دیتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

افغانستان: لباس کے ضوابط پر عمل نہ کرنے کے الزام میں خواتین کی گرفتاریاں، اقوام متحدہ کا اظہار تشویش

شدید گرمی، جسم کا درجہ حرارت 106 ڈگری تک جا سکتا ہے، این آئی ایچ نے ہیٹ اسٹروک سے بچنے کا علاج بتادیا

کاسمیٹیکوریکسیا: بچیاں اسکن کیئر کے جنون میں مبتلا، جلد اور ذہنی کیفیت دونوں داؤ پر

موت کا کنواں: ایک صدی پرانا خطرناک تماشا جو آج بھی دلوں کی دھڑکن تیز کر دیتا ہے

کوئٹہ میں اندوہناک واقعہ، مالی مشکلات کے شکار شخص نے اہلیہ اور 4 بچوں کو قتل کر کے خودکشی کر لی

ویڈیو

گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کامیاب، مسلم لیگ ن کو شکست کی وجہ کیا بنی؟

جان بھی چلی جاتی تو افسوس نہ ہوتا، لیڈی ڈاکٹر ماہ نور کو بچانے والے عبدالرزاق کی داستان

بجٹ کی منظوری سے قبل بلاول بھٹو اور اسحاق ڈار کی اہم ملاقات، کن اہم امور پر گفتگو ہوئی؟

کالم / تجزیہ

میں انس عبیداللہ عابد کے جنازے میں کیوں نہیں گیا؟

کشمیر ایکشن کمیٹی کیا چاہتی ہے؟

فیض اور ایلس کا کتابوں سے اٹوٹ رشتہ