آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ حیدرآباد میں واقع اپنے ترقیاتی کنویں ’پساخی 13‘ سے تیل کی پیداوار کامیابی کے ساتھ شروع کر دی گئی ہے جو کہ پاکستان کا کلسٹک ذخیرے میں پہلا کامیاب ہوریزونٹل آئل ویل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹنڈو الہ یار میں تیل و گیس کا نیا ذخیرہ دریافت
کمپنی کے بیان کے مطابق مذکورہ کنواں اس وقت یومیہ 460 بیرل تیل پیدا کر رہا ہے۔ اس کنویں کی کھدائی 2,966 میٹر گہرائی تک کی گئی جس میں 546 میٹر کا ہوریزونٹل سیکشن بھی شامل ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ جدید جیو اسٹیئرنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے صرف 3 میٹر کے محدود ڈرلنگ زون کے اندر درست سمت میں کھدائی ممکن بنائی گئی جس سے ذخیرے کے بہترین حصے تک رسائی حاصل ہوئی۔
کمپنی کے مطابق کنویں کو شارٹ اسٹرنگ الیکٹرک سبمرسبل پمپ کے ذریعے مکمل اور ٹیسٹ کیا گیا جو خاص طور پر ہوریزونٹل کنوؤں کے لیے موزوں بنایا گیا ہے۔
مزید پڑھیے: خیبر پختونخوا، کوہاٹ میں تیل اور گیس کے نئے ذخائر دریافت
مشکل جغرافیائی حالات کے باوجود ہوریزونٹل ڈرلنگ کے طریقہ کار نے ذخیرے تک رسائی میں نمایاں اضافہ کیا جس کے نتیجے میں اسی نوعیت کے دیگر کنوؤں کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ پیداوار حاصل ہو رہی ہے۔
یہ کنواں پساخی اور پساخی نارتھ ڈیولپمنٹ اینڈ پروڈکشن لیز کا حصہ ہے جس میں او جی ڈی سی ایل کا 100 فیصد حصہ ہے۔
مزید پڑھیں: او جی ڈی سی ایل کو سندھ کے ضلع ٹنڈو اللہ یار میں تیل کے نئے ذخائر کی دریافت
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور تکنیکی مہارت کے عزم کی عکاس ہے اور اس سے ملک میں مقامی سطح پر ہائیڈروکاربن کی پیداوار میں اضافہ ہوگا جو پاکستان کی طویل مدتی توانائی سلامتی میں اہم کردار ادا کرے گا۔














