امریکی ریاست کیلیفورنیا کی ایک وفاقی عدالت نے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو اے آئی کمپنی Anthropic کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے کر اس کے سرکاری معاہدے ختم کرنے سے عارضی طور پر روک دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی عدالت نے پریس پر پابندیوں کو غیر آئینی قرار دے دیا، پنٹاگان پریشان
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کیلیفورنیا کی ضلعی عدالت کی جج ریٹا لن نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ اینتھروپک کو ’سپلائی چین رسک‘ قرار دینے کا حکومتی اقدام بظاہر قانون کے خلاف اور غیر معقول ہے۔
یہ مقدمہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی محکمہ دفاع نے کمپنی کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اس کے ساتھ تمام دفاعی معاہدے ختم کرنے کی ہدایت جاری کی تھی۔ اس کے بعد اینتھروپک نے اس فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ حکومت کی جانب سے کمپنی کے خلاف کارروائی بغیر مناسب نوٹس اور قانونی طریقہ کار کے کی گئی، جو آئینی اصولوں کے منافی ہے۔ تاہم جج نے اپنے فیصلے پر ایک ہفتے کے لیے عملدرآمد مؤخر کیا ہے تاکہ حکومت اپیل دائر کر سکے۔
دوسری جانب اینتھروپک کے ترجمان نے عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی محفوظ اور ذمہ دار مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لیے حکومتی اداروں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی عدالت کا بڑا فیصلہ: چین کا ٹرمپ محصولات ختم کرنے کا مطالبہ
واضح رہے کہ اینتھروپک، ’کلاڈ‘ نامی چیٹ بوٹ کی خالق کمپنی ہے اور اسے امریکی محکمہ دفاع کے حساس نیٹ ورکس پر کام کرنے کی اجازت حاصل رہی ہے، تاہم حالیہ تنازع کے بعد اس کے معاہدے خطرے میں پڑ گئے تھے۔














