کینسر سے انتقال کرنے والی بیوی کی یاد میں شوہر نے انوکھا ایڈونچر شروع کردیا

ہفتہ 28 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ملائیشیا کے 66 سالہ شہری نے اپنی مرحوم اہلیہ کی یاد میں 2200 کلومیٹر طویل دوڑ کا آغاز کیا ہے، جس کا مقصد نہ صرف ان کے مشترکہ خواب کو پورا کرنا ہے بلکہ کینسر سے متعلق آگاہی بھی پھیلانا ہے۔

ریٹائرڈ سول انجینئر لم شیانگ گوئے نے 28 مارچ سے جزیرہ نما ملائیشیا کے گرد 2200 کلومیٹر طویل دوڑ کا آغاز کیا ہے۔
یہ 90 روزہ مہم ’رن فار گولڈ‘ کے نام سے شروع کی گئی ہے، جسے وہ 22 جون اپنی 67ویں سالگرہ تک مکمل کرنا چاہتے ہیں۔

بیوی کی بیماری اور جدائی کا دکھ

اس سفر کی اصل وجہ ان کی اہلیہ گوہ جو لی کی وفات ہے۔
نومبر 2023 میں وہ اپنی پہلی ہاف میراتھن مکمل کرنے کی خوشی منا رہی تھیں، مگر جلد ہی شدید درد کے باعث ان کی حالت خراب ہو گئی۔
ابتدائی طور پر اسے معمولی بیماری سمجھا گیا، تاہم اپریل 2024 میں معلوم ہوا کہ وہ اسٹیج فور گال بلیڈر کینسر میں مبتلا ہیں۔
چند ماہ علاج کے بعد اگست 2024 میں وہ انتقال کر گئیں۔

غم کو مقصد میں بدلنے کی کوشش

لم کا کہنا ہے کہ وہ اس دکھ کو بدل نہیں سکتے، لیکن اسے ایک مقصد میں ڈھال سکتے ہیں۔
انہوں نے اس دوڑ کے ذریعے نہ صرف اپنی بیوی کے ساتھ دیکھا گیا خواب پورا کرنے کا فیصلہ کیا بلکہ کینسر سے متعلق آگاہی پھیلانے کا عزم بھی کیا۔

روزانہ 25 سے 35 کلومیٹر دوڑ

یہ دوڑ پینانگ کے ’ہوم آف ہوپ‘ سے شروع ہو کر وہیں ختم ہوگی، جہاں کینسر کے مریض بچوں کی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔
لم روزانہ 25 سے 35 کلومیٹر دوڑیں گے اور ملائیشیا کی 11 ریاستوں اور دو وفاقی علاقوں سے گزریں گے، جبکہ درمیان میں آرام کے دن بھی رکھے گئے ہیں۔

انہوں نے کینسر آگاہی کے لیے فنڈ ریزنگ مہم بھی شروع کی ہے اور 600,000 رنگٹ جمع کرنے کا ہدف رکھا ہے۔
اب تک اس مہم میں دوستوں اور عام لوگوں کی جانب سے تقریباً 50,000 رنگٹ جمع ہو چکے ہیں۔

اس طویل سفر میں وہ اکیلے نہیں ہوں گے۔ ایک تجربہ کار رنر اور اس کی اہلیہ ان کی سپورٹ ٹیم کا حصہ ہیں، جبکہ ایک ویڈیوگرافر اس مہم کی ڈاکیومنٹری بھی بنائے گا۔
ان کا بیٹا سفر کے اختتام کے قریب ان کے ساتھ شامل ہوگا جبکہ بیٹی آسٹریلیا سے ان کی حوصلہ افزائی کرے گی۔

بیوی کی یاد ہر قدم پر ساتھ

لم اپنی بیوی کی تصویر ساتھ لے کر یہ سفر مکمل کریں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ جسمانی طور پر میرے ساتھ نہیں، لیکن میں انہیں اپنے ساتھ لے کر جا رہا ہوں۔

لم کا ماننا ہے کہ دکھ سے نکلنے کے لیے نئی کہانیاں بنانا ضروری ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ دوڑ ایک ایسا کھیل ہے جو ہر جگہ کیا جا سکتا ہے اور عمر کی کوئی قید نہیں۔

یہ کہانی صرف ایک دوڑ کی نہیں بلکہ محبت، عزم اور امید کی علامت ہے، جہاں ایک شخص نے ذاتی غم کو اجتماعی بھلائی اور آگاہی میں بدل کر ایک نئی مثال قائم کی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ہاکی ورلڈ کپ: 4 مرتبہ کا عالمی چیمپیئن پاکستان جنوبی افریقہ کو ہرا کر 11ویں پوزیشن لینے میں کامیاب

’آج اقتدار نہیں بلکہ ذمہ داری منتقل ہونے جارہی ہے‘، فیصل ممتاز راٹھور کا بطور وزیراعظم آزاد کشمیر آخری خطاب

دنیا کے کم عمر ترین بادشاہ اویو انتقال کرگئے

بھارت جان لے، پانی ہماری ریڈ لائن ہے، 25 کروڑ پاکستانیوں کی آبی بقا پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، اسحاق ڈار

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی، پیٹرول 58پیسے، ڈیزل 17پیسے سستا

ویڈیو

میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس، مظاہرین پر ایف آئی آر کا تذکرہ

سانحہ پمز، ملزمان سامنے آئے نہ کوئی گرفتاری ہوسکی، سسٹم ٹھیک ہوگا؟ عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو

آزاد کشمیر کے نومنتخب وزیراعظم بیرسٹر افتخار گیلانی کون ہیں؟ کیریئر پر ایک نظر

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ