وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔
دونوں رہنماؤں کی گفتگو ایک گھنٹے سے زیادہ تک جاری رہی، دونوں لیڈران نے خطے میں جاری کشیدگی اور امن کی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
مزید پڑھیں: ایران میں جنگ بندی کے خلاف بھارت اور افغانستان کی مشترکہ مہم بے نقاب
وزیراعظم نے ایران پر اسرائیل کے مسلسل حملوں، بالخصوص گزشتہ روز شہری تنصیبات پر ہونے والے تازہ حملوں کی شدید مذمت کا اعادہ کیا۔
انہوں نے ان مشکل حالات میں ایرانی عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے 1900 سے زیادہ قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کے لیے دعا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔
وزیراعظم نے ایرانی صدر کو اپنی، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے امریکا، برادر خلیجی اور اسلامی ممالک کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں سے آگاہ کیا، جن کا مقصد امن مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔
ایرانی صدر نے پاکستان کے امن اقدام کی بھرپور حمایت کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اجتماعی کوششوں سے کشیدگی کے خاتمے کی کوئی مؤثر راہ نکلے گی۔
ایرانی صدر نے وزیراعظم کی مخلصانہ سفارتی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ایران کے خلاف اسرائیلی اقدامات کے حوالے سے اپنا مؤقف بیان کیا۔
مزید پڑھیں: نکسن سے ٹرمپ تک، پاکستان کا سفارتی کردار تاریخی ہے: الجزیرہ
انہوں نے مذاکرات اور ثالثی کے لیے اعتماد سازی کی ضرورت پر زور دیا اور اس ضمن میں پاکستان کے مثبت کردار کی تعریف کی۔
وزیراعظم نے ایرانی صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یقین دلایا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔













