1971 کے وسط میں ایک پاکستانی سرکاری طیارہ جس میں امریکی وزیر خارجہ ہنری کسینجر سوار تھے، اسلام آباد سے بیجنگ کے لیے رات کے وقت روانہ ہوا۔ یہ دورہ خفیہ تھا جس کی سہولت کاری پاکستان کررہا تھا۔ الجزیرہ نے نکسن سے ٹرمپ تک پاکستان کے سفارتی کردار کو تاریخی قرار دیا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق آج 50 سال سے زیادہ عرصہ بعد پاکستان ایک بار پھر سفارتی کردار ادا کررہا ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 25 مارچ کو تصدیق کی کہ اسلام آباد ایران کو امریکی 15 نکاتی جنگ بندی کی تجویز پہنچا رہا ہے، جبکہ ترکیہ اور مصر اضافی سفارتی تعاون فراہم کررہے ہیں۔ دوسری جانب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ دوسرے مہینے میں داخل ہو گئی ہے۔
جمعرات کو امریکی چیف مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف نے بھی تصدیق کی کہ پاکستان واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات پہنچا رہا ہے۔
چند گھنٹے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایرانی پاور پلانٹس پر متوقع حملوں کو 10 دن کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان کیا، جس کی وجہ ان کے الفاظ میں ایرانی حکومت کی درخواست تھی۔
ایران نے تاحال براہِ راست مذاکرات کی تردید کی ہے، لیکن ٹرمپ کے حالیہ تعطل کا مطلب ہے کہ ایران کے پاور پلانٹس پر ابتدائی حملے کی دھمکی جو گزشتہ ہفتے دی گئی تھی، اب دو مرتبہ مؤخر ہو چکی ہے، اور اس دوران پاکستان ایک اہم سفارتی سہولت کار کا کردار ادا کررہا ہے۔
امریکا کا پاکستان کے ذریعے چین سے رابطہ
اگست 1969 میں امریکی صدر رچرڈ نکسن نے پاکستان کا دورہ کیا اور خاموشی سے ملک کے فوجی حکمران صدر یحییٰ خان کو بیجنگ تک پیغام پہنچانے کا کام سونپا۔ واشنگٹن نے عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ رابطہ کھولنے کی خواہش ظاہر کی۔
اس وقت امریکا نے تائیوان کو چین سمجھا اور بیجنگ کو تسلیم نہیں کیا، پاکستان کو یہ سفارتی کردار اس لیے دیا گیا کیونکہ اس کے واشنگٹن اور بیجنگ دونوں کے ساتھ تعلقات موجود تھے۔
ہنری کسینجر کے معاون ونسٹن لارڈ نے 1998 میں ایک انٹرویو میں کہاکہ ہم نے آخرکار پاکستان کو منتخب کیا، کیوںکہ پاکستان دونوں فریقوں کا دوست تھا۔
جولائی 1971 میں ہنری کسینجر اسلام آباد آئے، جولائی 9 کی صبح کے وقت یحییٰ خان کے ڈرائیور نے ہنری کسینجر اور تین معاونین کو ایک فوجی ہوائی اڈے پر پہنچایا، جہاں ایک پاکستانی سرکاری طیارہ چار چینی نمائندوں کے ساتھ انتظار کررہا تھا۔
طیارہ رات بھر بیجنگ کے لیے پرواز کرتا رہا، ہنری کسینجر نے چینی رہنما چو این لائی کے ساتھ 48 گھنٹے ملاقاتیں کیں، جس سے نکسن کے 1972 کے بیجنگ دورے اور ماؤ زے تنگ کے ساتھ مشہور مصافحہ کی راہ ہموار ہوئی، جس نے دونوں ممالک کے تعلقات میں نرمی پیدا کی اور امریکا نے کمیونسٹ چین کو تسلیم کیا۔
پاکستان کا افغان سفارتکاری میں بھی کردار چار دہائیوں پر محیط
پاکستان کا افغان سفارتکاری میں بھی کردار چار دہائیوں پر محیط ہے، 1980 کی دہائی میں سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد پاکستان امریکی، سعودی اور چینی فوجی و مالی معاونت کا بنیادی ذریعہ بن گیا۔
خطے میں امن کے لیے مسلسل سفارتکاری
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان سفارتکاری کے ذریعے خطے میں امن کا خواہاں ہے۔
’پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع جبکہ امریکا، چین اور مشرق وسطیٰ میں تعلقات اسے ایک قابل اعتماد ثالث بناتے ہیں۔‘
انہوں نے کہاکہ پاکستان کی ثالثی ہمیشہ امریکی خواہش کے تحت نہیں بلکہ یہ پاکستان کی سفارتی روایت میں شامل ہے۔ پاکستان بلاک پالیسی نہیں اپناتا اور واشنگٹن، بیجنگ، تہران، ریاض اور دیگر خلیجی ریاستوں کے ساتھ متوازن تعلقات رکھتا ہے۔
واشنگٹن، تہران اور خلیج کے دارالحکومتوں میں پاکستان کو اعتماد حاصل
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی کوششیں گزشتہ کوششوں کے مقابلے میں زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔
’پاکستان اب واشنگٹن، تہران اور خلیج کے دارالحکومتوں میں اعتماد رکھتا ہے، خطے میں کسی اور ملک کے پاس ایسا اثرورسوخ نہیں ہے۔‘














