مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران کے باعث عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر بنگلہ دیش نے ذخیرہ اندوزی روکنے اور سپلائی برقرار رکھنے کے لیے ملک بھر کے فیول ڈپوؤں پر سیکیورٹی فورس تعینات کر دی ہے۔
بنگلہ دیش حکومت نے ایندھن کی غیر قانونی ذخیرہ اندوزی روکنے اور سپلائی چین کو برقرار رکھنے کے لیے بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (بی جی بی) کو مختلف فیول ڈپوؤں پر تعینات کر دیا ہے۔
یہ اقدام وزارتِ داخلہ کی ہدایات پر کیا گیا ہے تاکہ ایندھن کی تقسیم میں نظم و ضبط برقرار رکھا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے بنگلہ دیش میں غیر قانونی فیول ذخیرہ کرنے والا گروہ پکڑا گیا، 6 ہزار لیٹر ڈیزل برآمد
25 مارچ کی صبح سے بی جی بی اہلکار ملک کے 9 اضلاع کے 19 فیول ڈپوؤں پر تعینات ہیں، جن میں دارالحکومت ڈھاکہ سمیت رنگپور، راجشاہی، سلہٹ، کومیلا اور دیگر علاقے شامل ہیں۔
حکام کے مطابق غیر قانونی طور پر ایندھن ذخیرہ کرنے کی اطلاعات موصول ہونے کے بعد یہ پیشگی اقدامات کیے گئے تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران سے نمٹا جا سکے۔
بی جی بی کی یہ کارروائی ایک منظم نظام کے تحت جاری ہے، جہاں ہر یونٹ ایک افسر کی نگرانی میں کام کر رہا ہے۔
دور دراز علاقوں میں تعینات اہلکاروں کے لیے عارضی کیمپ بھی قائم کیے گئے ہیں تاکہ مؤثر نگرانی یقینی بنائی جا سکے۔
حکام نے بتایا کہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے انٹیلی جنس نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔
فیول ڈپو انتظامیہ کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی صورتحال پر فوری ردعمل دیا جا سکے۔
ایندھن کی اسمگلنگ روکنے کے لیے سرحدی علاقوں میں بھی سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
گشت میں اضافہ، چیک پوسٹس کا قیام، گاڑیوں کی سخت جانچ اور بندرگاہوں پر نگرانی کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے بنگلہ دیش میں توانائی خدشات بڑھ گئے، وزیراعظم طارق رحمان کی زیر صدارت اہم اجلاس
حکام کے مطابق ڈپوؤں پر سیکیورٹی فورس کی موجودگی سے نہ صرف ایندھن کی سپلائی معمول پر برقرار ہے بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال ہو رہا ہے۔
بنگلہ دیش حکومت نے واضح کیا ہے کہ قومی توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا، اور ایندھن کی سپلائی میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔














