وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ عوام کے خلاف کسی بھی فیصلے کا نہ حصہ بنیں گے اور نہ ہی اس کی حمایت کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت قاسم خان کے بیان کو غلط رنگ دے رہی ہے، سہیل آفریدی
سہیل آفریدی نے ایوان صدر میں منعقدہ اجلاس میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل اور ریجنل کرائسز پر خیبرپختونخوا کا واضح مؤقف اجلاس میں پیش کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے مطابق اجلاس میں پیٹرول و ڈیزل بحران اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں ایسے فیصلوں سے گریز کیا جانا چاہیے جو معاشی سرگرمیوں کو متاثر کریں۔
وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ کفایت شعاری کا آغاز منتخب نمائندوں اور ریاستی اداروں سے ہونا چاہیے جبکہ خطے میں کشیدگی کے دوران پاکستان کو امن اور مذاکرات کا کردار ادا کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلم دنیا بحران کے وقت پاکستان کی طرف دیکھتی ہے اس لیے او آئی سی کو فعال بنانا ضروری ہے۔
’لاک ڈاؤن سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا‘
وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ لاک ڈاؤن سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا اور اس حوالے سے کل سب کمیٹی کا اجلاس ہوگا۔
انہوں نے این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے کہا کہ قبائلی اضلاع کے 1375 ارب روپے سے زائد کے حصے کی ادائیگی تاحال نہیں کی گئی اور گزشتہ سات سال سے ان کا حق دیگر صوبوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق این ایف سی ایوارڈ 2018 سے غیر آئینی طور پر چل رہا ہے اور صوبے کو اس کا حصہ دیے بغیر مزید وسائل کا مطالبہ قابل قبول نہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا فرنٹ لائن پر ہے جبکہ سیلاب اور کاؤنٹر ٹیررزم کے معاملات میں صوبے نے وفاق سے ایک روپیہ بھی نہیں لیا۔
صحت کارڈ و رمضان پیکج کے تحت 100 ارب روپے خرچ کیے گئے
وزیرا علیٰ خیبرپختونخوا نے بتایا کہ صحت کارڈ اور رمضان پیکج کے تحت 100 ارب روپے سے زائد عوام پر خرچ کیے گئے ہیں۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ عدالتوں میں ہمارے کیسز نہیں لگائے جا رہے اور عمران خان سے ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کو 3 سالوں سے مسلسل دیوار سے لگایا جارہا ہے، سہیل آفریدی
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر کسی پالیسی سے عوام کو فائدہ ہوا تو ہم اس کا ساتھ دیں گے لیکن اگر نقصان ہوا تو اس کی مخالفت کریں گے۔














