امریکا ایران کشیدگی: موجودہ صورتحال سے پاکستان کیسے فائدہ اٹھا سکتا ہے؟

جمعہ 3 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی نے عالمی سطح پر افرادی قوت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے جس کے باعث محفوظ تصور کیے جانے والے ممالک سے بھی سرمایہ کار اپنا سرمایہ نکالنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی سفیر کی سعودی عرب میں اپنے شہریوں کو سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کی ہدایت

اس بحرانی صورتحال میں سعودی عرب کی حکمت عملی کو نہایت مثبت قرار دیا گیا ہے جہاں ‘ویژن 2030’ اور فیفا ورلڈ کپ جیسے بڑے منصوبوں کی بدولت افرادی قوت کی طلب برقرار رہنے کی امید ہے۔

موجودہ حالات کو پاکستان کے لیے ایک سنہری موقع قرار دیا جا رہا ہے اگر پاکستان سرمایہ کاروں کو تحفظ کی یقین دہانی اور ایک واضح روڈ میپ فراہم کر دے تو نہ صرف مقامی معیشت مستحکم ہوگی بلکہ ملکی افرادی قوت کو باہر بھیجنے کے بجائے ملک کے اندر ہی روزگار کے دیرپا مواقع فراہم کیے جا سکیں گے۔

اوورسیزایمپلائمنٹ پروموٹرز ایسوسی ایشن کے سابق نائب صدر محمد عدنان پراچہ کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے مابین جاری جنگی صورت حال کے پیش نظر دنیا بھر کی افرادی قوت متاثر ہونے لگی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس جنگ کو روکنے میں پاکستان کا کردار قابل تعریف ہے۔

مزید پڑھیے: سعودی عرب میں پاکستانی سفیر کا اوورسیز کمیونٹی کو صبر و تحمل کا پیغام

محمد عدنان پراچہ کے مطابق ایران کے حملوں کے بعد وہ ممالک جو پہلے محفوظ ترین سمجھے جاتے تھے وہاں سے بھی سرمایہ کار اپنا سرمایہ نکالنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس وقت 40 لاکھ کے قریب افرادی قوت اس جنگ کے نتیجے میں متاثر ہوئی ہے لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ اس انخلا کو روکا کیسے جائے۔

محمد عدنان پراچہ کے مطابق ابتدائی طور 4 لاکھ پاکستانی اس جنگ سے متاثر ہوں گے اور یہ افرادی قوت متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، عمان اور کویت میں کام کررہی ہے۔

برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے حوالے سے عدنان پراچہ کا کہنا تھا کہ وہاں موجود افرادی قوت زیادہ متاثر نہیں ہوگی۔ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں ’ویژن 2030‘ اور فیفا ورلڈ کپ جیسے بڑے منصوبے جاری ہیں جس کی وجہ سے افرادی قوت کی طلب برقرار رہے گی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ کچھ معاملات سست روی کا شکار ہو سکتے ہیں لیکن سعودی عرب کی مؤثر پالیسی کے باعث سرمایہ کار وہاں کا رخ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس جنگ میں سعودی عرب نے نہ صرف خود کو محفوظ رکھا بلکہ مثبت کردار بھی ادا کیا جس کے باعث آنے والے وقتوں میں وہاں افرادی قوت کی طلب میں اضافہ متوقع ہے۔

مزید پڑھیں: حکومت اوورسیز پاکستانیوں کی فلاح و سہولت کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، وزیر قانون

عدنان پراچہ کا کہنا ہے کہ اس وقت قابل غور بات یہ ہے کہ جو سرمایہ کار گلف ممالک میں موجود تھے وہ اب دیگر ممالک کا رخ کر سکتے ہیں اور یہ پاکستان کے لیے ایک سنہری موقع ہے کہ ان سرمایہ کاروں کو اپنی جانب راغب کیا جائے۔

ان کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اس حوالے سے کوششیں کر رہے ہیں اور اگر پاکستان تحفظ کی یقین دہانی کے ساتھ ایک واضح روڈ میپ بھی فراہم کر دے تو نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جہاں تک ان پاکستانی سرمایہ کاروں کا تعلق ہے جنہوں نے گلف میں سرمایہ لگایا ہے اور پھنس چکے ہیں ان کے لیے بھی ایک بہترین موقع ہے کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اب دیرپا فیصلے کرنے ہوں گے اور اگر سرمایہ کار پاکستان کا رخ کر لیتے ہیں تو ہماری افرادی قوت باہر کیوں جائے گی۔

عدنان پراچہ کے مطابق افرادی قوت کے متاثر ہونے کا مطلب ہے کہ ہماری ترسیلات زر جون کے بعد سے متاثر ہونی شروع ہوجائیں گی اس لیے اس موقعے سے فائدہ اٹھا کر دیرپا فوائد پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: اگر اوورسیز پاکستانی کی جائیداد پر قبضہ ہوا تو ڈی سی اسلام آباد 7 دن کے اندر فیصلہ کرے گا، محسن نقوی

عدنان پراچہ کا کہنا ہے کہ جب مشکلات آتی ہیں تو اس کے ساتھ آسانیاں اور مواقع بھی آتے ہیں اور راستے بھی ہمارے پاس موجود ہیں لہٰذا اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت پاکستان ان کا تعین کس طرح کرتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تونسہ میں ایچ آئی وی بحران، غیر تربیت یافتہ افراد سے انجیکشن لگوانے کا انکشاف

بحیرہ انڈمان میں کشتی ڈوبنے کا ہولناک واقعہ، 250 سے زائد افراد لاپتا ہونے کا خدشہ

امریکی سفارتکار زکری ہارکن رائیڈر کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

خیبرپختونخوا: سرکاری ملازمین کی حکومتی اجازت کے بغیر غیرملکیوں سے شادی پر پابندی، نئے رولز جاری

ورلڈ کوانٹم ڈے: نئی ٹیکنالوجی کے چیلنج پر ادارے تیار، ڈیٹا کو لاحق خطرات میں اضافہ

ویڈیو

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا سکتا ہے؟

پاکستان میں بھارتی مواد چلانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، عوام کی رائے

پچھلے 13 سالوں میں پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں کرپشن کے سوا کچھ نہیں کیا، آفتاب شیرپاؤ

کالم / تجزیہ

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا

سمندری ناکہ بندی اور فیصلہ کن گھڑی میں پاکستان کا ثابت قدم کردار