ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی نے عالمی سطح پر افرادی قوت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے جس کے باعث محفوظ تصور کیے جانے والے ممالک سے بھی سرمایہ کار اپنا سرمایہ نکالنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی سفیر کی سعودی عرب میں اپنے شہریوں کو سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کی ہدایت
اس بحرانی صورتحال میں سعودی عرب کی حکمت عملی کو نہایت مثبت قرار دیا گیا ہے جہاں ‘ویژن 2030’ اور فیفا ورلڈ کپ جیسے بڑے منصوبوں کی بدولت افرادی قوت کی طلب برقرار رہنے کی امید ہے۔
موجودہ حالات کو پاکستان کے لیے ایک سنہری موقع قرار دیا جا رہا ہے اگر پاکستان سرمایہ کاروں کو تحفظ کی یقین دہانی اور ایک واضح روڈ میپ فراہم کر دے تو نہ صرف مقامی معیشت مستحکم ہوگی بلکہ ملکی افرادی قوت کو باہر بھیجنے کے بجائے ملک کے اندر ہی روزگار کے دیرپا مواقع فراہم کیے جا سکیں گے۔
اوورسیزایمپلائمنٹ پروموٹرز ایسوسی ایشن کے سابق نائب صدر محمد عدنان پراچہ کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے مابین جاری جنگی صورت حال کے پیش نظر دنیا بھر کی افرادی قوت متاثر ہونے لگی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس جنگ کو روکنے میں پاکستان کا کردار قابل تعریف ہے۔
مزید پڑھیے: سعودی عرب میں پاکستانی سفیر کا اوورسیز کمیونٹی کو صبر و تحمل کا پیغام
محمد عدنان پراچہ کے مطابق ایران کے حملوں کے بعد وہ ممالک جو پہلے محفوظ ترین سمجھے جاتے تھے وہاں سے بھی سرمایہ کار اپنا سرمایہ نکالنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس وقت 40 لاکھ کے قریب افرادی قوت اس جنگ کے نتیجے میں متاثر ہوئی ہے لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ اس انخلا کو روکا کیسے جائے۔
محمد عدنان پراچہ کے مطابق ابتدائی طور 4 لاکھ پاکستانی اس جنگ سے متاثر ہوں گے اور یہ افرادی قوت متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، عمان اور کویت میں کام کررہی ہے۔
برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے حوالے سے عدنان پراچہ کا کہنا تھا کہ وہاں موجود افرادی قوت زیادہ متاثر نہیں ہوگی۔ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں ’ویژن 2030‘ اور فیفا ورلڈ کپ جیسے بڑے منصوبے جاری ہیں جس کی وجہ سے افرادی قوت کی طلب برقرار رہے گی۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ کچھ معاملات سست روی کا شکار ہو سکتے ہیں لیکن سعودی عرب کی مؤثر پالیسی کے باعث سرمایہ کار وہاں کا رخ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس جنگ میں سعودی عرب نے نہ صرف خود کو محفوظ رکھا بلکہ مثبت کردار بھی ادا کیا جس کے باعث آنے والے وقتوں میں وہاں افرادی قوت کی طلب میں اضافہ متوقع ہے۔
مزید پڑھیں: حکومت اوورسیز پاکستانیوں کی فلاح و سہولت کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، وزیر قانون
عدنان پراچہ کا کہنا ہے کہ اس وقت قابل غور بات یہ ہے کہ جو سرمایہ کار گلف ممالک میں موجود تھے وہ اب دیگر ممالک کا رخ کر سکتے ہیں اور یہ پاکستان کے لیے ایک سنہری موقع ہے کہ ان سرمایہ کاروں کو اپنی جانب راغب کیا جائے۔
ان کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اس حوالے سے کوششیں کر رہے ہیں اور اگر پاکستان تحفظ کی یقین دہانی کے ساتھ ایک واضح روڈ میپ بھی فراہم کر دے تو نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک ان پاکستانی سرمایہ کاروں کا تعلق ہے جنہوں نے گلف میں سرمایہ لگایا ہے اور پھنس چکے ہیں ان کے لیے بھی ایک بہترین موقع ہے کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اب دیرپا فیصلے کرنے ہوں گے اور اگر سرمایہ کار پاکستان کا رخ کر لیتے ہیں تو ہماری افرادی قوت باہر کیوں جائے گی۔
عدنان پراچہ کے مطابق افرادی قوت کے متاثر ہونے کا مطلب ہے کہ ہماری ترسیلات زر جون کے بعد سے متاثر ہونی شروع ہوجائیں گی اس لیے اس موقعے سے فائدہ اٹھا کر دیرپا فوائد پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: اگر اوورسیز پاکستانی کی جائیداد پر قبضہ ہوا تو ڈی سی اسلام آباد 7 دن کے اندر فیصلہ کرے گا، محسن نقوی
عدنان پراچہ کا کہنا ہے کہ جب مشکلات آتی ہیں تو اس کے ساتھ آسانیاں اور مواقع بھی آتے ہیں اور راستے بھی ہمارے پاس موجود ہیں لہٰذا اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت پاکستان ان کا تعین کس طرح کرتی ہے۔













