لاہور کی عدالت نے گلوکار علی ظفر کی جانب سے گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف دائر 100 کروڑ روپے کے ہتکِ عزت کے دعوے پر 8 سال بعد فیصلہ سناتے ہوئے علی ظفر کو الزامات سے بری قرار دے دیا۔
سیشن عدالت کے فیصلے کے مطابق ہراسانی کے الزامات ثابت نہیں ہو سکے جبکہ عدالت نے میشا شفی پر ہتکِ عزت کے الزام میں 50 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ میشا شفیع عدالت میں پیش نہ ہو سکیں اور اپنے دعوؤں کے حق میں خاطر خواہ شواہد فراہم نہیں کر سکیں، جبکہ علی ظفر نے اپنے گواہان پیش کیے۔
یہ بھی پڑھیں: ہتک عزت مقدمہ: علی ظفر کی سیشن عدالت میں کامیابی، میشا شفیع کا لاہور ہائیکورٹ جانے کا فیصلہ
فیصلے کے بعد علی ظفر نے نے پہلی مرتبہ ردِعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر بیان جاری کیا۔ اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں اور ان تمام افراد کا بھی جنہوں نے مشکل وقت میں میرا اور سچ کا ساتھ دیا۔ انصاف ہو چکا ہے۔ مجھے کسی قسم کی جیت کا احساس نہیں بلکہ عاجزی اور شکرگزاری ہے۔ میرے دل میں کسی کے لیے کوئی منفی جذبات نہیں، اور میرے لیے یہ باب اب ختم ہو چکا ہے۔
Переглянути цей допис в Instagram
واضح رہے کہ گلوکار علی ظفر کے لاہور کی سیشن کورٹ میں ہتک عزت کا دعویٰ جیت جانے کے بعد گلوکارہ و اداکارہ میشا شفیع فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
میشا شفیع اور پاپ اسٹار علی ظفر کے درمیان قانونی جنگ اپریل 2018 میں شروع ہوئی تھی۔ میشا شفیع نے ٹوئٹر پر علی ظفر پر ایک سے زیادہ مواقع پر جسمانی ہراسانی کا الزام عائد کیا تھا جس پر گلوکار نے ہتک عزت کا دعویٰ دائر کردیا تھا جس میں انہیں 8 برس بعد کامیابی حاصل ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: علی ظفر کا ہتک عزت کا دعویٰ درست قرار، میشا شفیع مقدمہ ہارگئیں
مقدمے کے دوران مجموعی طور پر 20 گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے جبکہ کیس کی 284 پیشیاں ہوئیں۔ اس طویل عدالتی عمل کے دوران 9 ججز بھی تبدیل ہوئے۔
یہ مذکورہ عالمی تحریک سے وابستہ ایک اہم اور ہائی پروفائل کیس تھا۔ اس میں جنسی ہراسانی کے الزامات اور اس کے بعد ایک بڑے ہتکِ عزت کے مقدمے نے کئی سالوں تک جاری رہنے والی قانونی کارروائی کو جنم دیا۔














