پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا میری مقدم نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی خیرسگالی اور ثالثی کی کوششیں ایک نہایت اہم اور حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے پیغام میں ایرانی سفیر نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو مثبت اور نتیجہ خیز قرار دیتے ہوئے عندیہ دیا کہ اس حوالے سے پیش رفت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صورتحال ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور جلد اس بارے میں مزید اہم معلومات سامنے آ سکتی ہیں۔
Pakistan positive and productive endeavours in Good Will and Good Office to stop the war is approaching a critical, sensitive stage …
Stay Tuned for more
— Reza Amiri Moghadam (@IranAmbPak) April 7, 2026
صورت حال سے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک بڑی اور غیرمعمولی سفارتی کامیابی کے قریب پہنچ گیا ہے، جسے مبصرین ’معجزاتی معاہدہ‘ قرار دے رہے ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق جاری کوششوں کے نتیجے میں ایک اہم ڈیل تقریباً طے ہونے کے مرحلے میں ہے، جو خطے کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
اس پیش رفت کو پاکستان کی فعال اور مؤثر سفارتکاری کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے، جس نے پیچیدہ معاملات کو حل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ طے پا گیا تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ایک بڑی پیش رفت ثابت ہوگا، جبکہ امن و استحکام کی نئی راہیں بھی کھل سکتی ہیں۔
BREAKING
PAKISTAN IS CLOSE…VERY CLOSE.. TO PULLING OFF A MIRACULOUS DEAL.
— Kamran Yousaf (@Kamran_Yousaf) April 7, 2026
واضح رہے کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر نے ایران امریکا جنگ بندی کے لیے انتہائی متحرک ہیں۔ گزشتہ سے پیوستہ شب ، وہ پوری رات امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی صدارتی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے مسلسل رابطہ میں رہے۔ جس کے نتیجے میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں اہم مرحلے میں داخل ہوگئیں۔ اور ایک جامع امن منصوبہ دونوں ممالک کو پیش کر دیا گیا۔
بعدازاں ایران اور امریکا دونوں نے باقاعدہ پاکستان کی طرف سے امن منصوبہ کی تجاویز موصول ہونے کی خبر دی تھی اور اس منصوبہ پر غوروفکر کا عندیہ دیا تھا۔
سفارتی حلقوں کے مطابق پاکستان کی جانب سے علاقائی امن کے قیام کے لیے جاری کوششیں بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ حاصل کر رہی ہیں، جبکہ ممکنہ جنگ بندی کے لیے پیش رفت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایرانی سفیر کا بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان پسِ پردہ سفارتکاری کے ذریعے تنازع کے حل میں جو فعال کردار ادا کر رہا ہے، وہ جلد نتیجہ خیز ثابت ہونے والا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایسی کوششیں عموماً حساس مرحلے میں داخل ہونے کے بعد ہی نمایاں نتائج دیتی ہیں، جس سے خطے میں امن کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے ایران امریکا جنگ بندی کے لیے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر ساری رات رابطے کرتے رہے
واضح رہے کہ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز نے اس معاملے سے باخبر ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان کی طرف سے مجوزہ امن منصوبے کے تحت نہ صرف فوری جنگ بندی ممکن ہے بلکہ اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو بھی دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ فریم ورک پاکستان نے مجوزہ منصوبہ پانچ اور چھ اپریل کی شب ایران اور امریکا کو باضابطہ طور پر ارسال کیا گیا۔
پاکستان کا مجوزہ امن منصوبہ کیا ہے؟
اس منصوبے میں دو مرحلے شامل ہیں: پہلے مرحلے میں فوری جنگ بندی جبکہ دوسرے مرحلے میں ایک پائیدار اور جامع امن معاہدے کی تشکیل شامل ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ’تمام نکات پر آج ہی اتفاقِ رائے ضروری ہے‘، جبکہ ابتدائی سمجھوتے کو مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی شکل دے کر پاکستان کے ذریعے الیکٹرانک طور پر حتمی شکل دی جائے گی، کیونکہ اس عمل میں پاکستان واحد رابطہ کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکا، ایران اور علاقائی ثالث ممالک 45 روزہ جنگ بندی پر مشتمل دو مرحلوں کے ایک معاہدے پر غور کر رہے ہیں، جو بالآخر مستقل امن کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ یہ معلومات امریکی، اسرائیلی اور علاقائی ذرائع کے حوالے سے سامنے آئی تھیں۔
یہ بھی پڑھیے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی میں پاکستان متحرک، فیلڈ مارشل عاصم منیر کا صدر ٹرمپ سے رابطہ: فنانشل ٹائمز کی رپورٹ
منصوبے کے تحت فوری جنگ بندی کے ساتھ آبنائے ہرمز کو کھولنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ حتمی معاہدے کی تکمیل کے لیے 15 سے 20 دن کی مدت رکھی گئی ہے۔ اس مجوزہ معاہدے کو غیر رسمی طور پر ’ معاہدہ اسلام آباد‘ کا نام دیا گیا ہے، جس کے تحت حتمی بالمشافہ مذاکرات اسلام آباد میں متوقع ہیں۔
ایرانی حکام پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ وہ مستقل جنگ بندی چاہتے ہیں اور اس کے لیے امریکا یا اسرائیل کی جانب سے آئندہ کسی بھی حملے کے خلاف ضمانت کے خواہاں ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان، ترکیہ اور مصر سمیت مختلف ممالک کی جانب سے ثالثی پیغامات موصول ہو چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ممکنہ حتمی معاہدے میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی شامل ہوگی، جس کے بدلے اسے اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی واپسی کی پیشکش کی جا سکتی ہے۔














