امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی مندی کا رجحان سامنے آیا ہے۔ برینٹ کروڈ کی قیمت 9 فیصد سے زائد اضافے کے بعد 105 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا۔
یہ پہلی بار ہے کہ قیمت دوبارہ 100 ڈالر کی نفسیاتی حد سے اوپر گئی ہے، اس سے قبل گزشتہ ہفتے قیمتیں 92 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی تھیں جس کے باعث پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: جنگ کے بعد پہلی بار امریکی جنگی جہاز آبنائے ہرمز میں داخل
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں غیر یقینی صورتحال بدستور برقرار ہے، جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد بھی مارکیٹ میں اعتماد مکمل بحال نہیں ہو سکا۔ اس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت بڑھ کر 105 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس اہم بحری گزرگاہ سے گزرنے والے آئل ٹینکرز کو لاحق خطرات کے باعث شپنگ اور انشورنس اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے، جو بالآخر تیل کی مجموعی لاگت کو بڑھا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا کے ایران کیخلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں تیزی، ایشیائی اسٹاک مارکیٹیں گر گئیں
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 10 سے 30 روپے تک اضافہ متوقع ہے، جبکہ کشیدگی میں مزید شدت آنے کی صورت میں یہ اضافہ 40 روپے فی لیٹر یا اس سے زائد بھی ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کی بڑی حد تک تیل کی درآمدات خلیجی ممالک سے وابستہ ہیں، جو اسی راستے سے آتی ہیں، جس کے باعث ملک اس جغرافیائی دباؤ سے براہ راست متاثر ہوتا ہے۔ مزید برآں پاکستانی روپیہ کی قدر میں کمی بھی درآمدی لاگت میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق مالی دباؤ کے باعث پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز میں فوری کمی ممکن نہیں، جس کے نتیجے میں عوام پر بوجھ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے: جنگ بندی کے باوجود تیل و گیس کی قیمتیں معمول پر آنے میں کتنا وقت لگے گا؟
واضح رہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ معمولی جغرافیائی کشیدگی بھی پاکستان جیسے درآمدی معیشتوں کے لیے بڑے معاشی چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔
اس وقت ملک بھر میں پیٹرول کی قیمت 366 روپے فی لیٹر ہے اور ڈیزل کی قیمت 385 روپے فی لیٹر ہے، وزیراعظم نے آخری مرتبہ 10 اپریل کو جب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کیا تھا تو اس وقت خام تیل کی قیمت 94 ڈالر فی بیرل تھی جو کہ اب 105 ڈالر ہو گئی ہے، اس لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہ یقینی ہے۔













