اقوامِ متحدہ کے بحری ادارے کے سربراہ نے پیر کے روز کہا ہے کہ کسی بھی ملک کو امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث مفلوج ہوجانیوالی تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں جہازرانی روکنے کا قانونی حق حاصل نہیں۔
ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے سیکریٹری جنرل ارسینیو ڈومینگز نے کہا کہ جنگ شروع ہونے کے 6 ہفتے بعد بھی آبنائے تک رسائی محدود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے برطانیہ کا بڑا اقدام، 35 ممالک کا اجلاس طلب
امریکا نے پیر سے آبنائے ہرمز کے اطراف ایرانی بندرگاہوں کے محاصرے کی دھمکی دی تھی، جبکہ ایران کی افواج 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے اس گزرگاہ تک رسائی کو کنٹرول کر رہی ہیں۔
The head of the UN maritime agency says no country has a legal right to block shipping in the Strait of #Hormuz, a trade passage paralyzed by the US-Iran war.https://t.co/0t1z5onyuX
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) April 13, 2026
ڈومینگز کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق کسی بھی ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ بین الاقوامی گزرگاہوں میں بے ضرر گزر یا جہاز رانی کی آزادی کو روکے۔
ایرانی حکام بعض منتخب جہازوں کو اپنی ساحلی پٹی کے قریب سے گزرنے کی اجازت دے رہے ہیں، اور بعض رپورٹس کے مطابق اس کے بدلے ادائیگی بھی وصول کی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کشیدگی: کن علاقوں کی انٹرنیٹ سروس بھی متاثر ہو سکتی ہے؟
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی گزرگاہ سے جہاز رانی کے لیے ٹول (فیس) عائد کرنا سمندری عالمی قانون اور روایتی قانون کے خلاف ہے، اور یہ ایک خطرناک مثال قائم کرے گا۔
امریکی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کے ممکنہ محاصرے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ اقدام صورتحال کو بہتر نہیں بنائے گا۔
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز کی بندش: پاکستان کی سعودی عرب سے تیل کی فراہمی کے لیے متبادل راستہ دینے کی درخواست
انہوں نے زور دیا کہ کشیدگی میں کمی ہی بحران کے حل اور جہاز رانی کو معمول پر لانے کا واحد راستہ ہے۔
ڈومینگز کے مطابق امریکی محاصرے کے اضافی اثرات محدود ہوں گے کیونکہ پہلے ہی بہت کم جہاز اس راستے سے گزر پا رہے ہیں۔














