چین نے اسلام آباد میں ہونے والے امریکا اور ایران کے مذاکرات کو کشیدگی میں کمی کی جانب اہم پیشرفت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ دونوں فریق جنگ بندی برقرار رکھیں گے۔
مزید پڑھیں: امریکا اور ایران مذاکرات جاری رکھنے پر متفق، اگلی نشست جلد متوقع، تجزیہ کار
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے اپنے بیان میں کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات ایک مثبت قدم ہیں اور امید ہے کہ اختلافات کو جنگ کے بجائے سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے گا تاکہ خلیجی خطے میں جلد امن بحال ہو سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں خلل کی بنیادی وجہ فوجی کشیدگی ہے، اس لیے مسئلے کے حل کے لیے ضروری ہے کہ تنازع فوری طور پر ختم کیا جائے۔ ان کے مطابق تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
The U.S.-Iran negotiation in Islamabad was a step towards de-escalation. China hopes the ceasefire will be kept, disputes will be resolved through political and diplomatic means rather than reigniting the flames of war, and conditions will be created for an early return of peace… pic.twitter.com/VDU95i8jfW
— Lin Jian 林剑 (@SpoxCHN_LinJian) April 13, 2026
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان قریباً 24 گھنٹے طویل مذاکرات اتوار کو اسلام آباد میں اختتام پذیر ہوئے، جن میں اہم نکات پر اختلافات برقرار رہے تاہم بات چیت جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی گئی۔
مذاکرات کا آغاز ہفتے کی دوپہر ہوا، ابتدا میں بالواسطہ بات چیت کی گئی جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان براہ راست ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ یہ مذاکرات رات گئے تک جاری رہے جو معاملے کی پیچیدگی اور سنجیدگی کو ظاہر کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات، ایٹمی پروگرام اور پابندیاں مرکزی نکات
پاکستان کے لیے ان مذاکرات کی میزبانی سفارتی لحاظ سے ایک اہم موقع بھی تھا، جس کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی۔ مذاکرات کے اختتام پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دونوں ممالک کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے اسلام آباد کی کوششوں کا مثبت جواب دیا۔














