بنگلہ دیش کو جاری مشرقِ وسطیٰ تنازع کے باعث پیدا ہونے والے معاشی دباؤ سے نمٹنے کے لیے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی جانب سے 2 ارب ڈالر تک کی اضافی مالی معاونت ملنے کا امکان ہے۔
بنگلہ دیش کے وزیر خزانہ امیر خسرو محمود چوہدری نے اس پیش رفت کی تصدیق واشنگٹن میں ہونے والے آئی ایم ایف ورلڈ بینک اسپرنگ اجلاسوں کے موقع پر دونوں اداروں کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں کے بعد کی۔
یہ بھی پڑھیں: مالی بدانتظامی کے ذمہ داروں کو ریلیف؟ بنگلہ دیش میں نئی بحث
ڈھاکہ سے شائع ہونے والے اخبار دی ڈیلی اسٹار کے مطابق رواں برس جون تک متوقع یہ ہنگامی مالی معاونت بنگلہ دیش کے پہلے سے جاری مالی پروگراموں کے علاوہ ہوگی۔
13 اپریل کو ہونے والی ملاقاتوں میں وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ارجیت پٹیل اور ورلڈ بینک کے جنوبی ایشیا کے نائب صدر جون جوٹ سمیت دیگر حکام سے بھی بات چیت کی۔
Finance Minister Amir Khosru Mahmud Chowdhury warns of rising economic pressures due to global energy price hikes, following the US-Israeli conflict. The additional Tk36,000 crore subsidy requirement and foreign exchange strain highlight Bangladesh's vulnerability in the face of… pic.twitter.com/CgtR3HmgZN
— Centrist Nation TV (@centristnattv) April 10, 2026
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امیر خسرو چوہدری نے عندیہ دیا کہ بنگلہ دیش کو اپنے موجودہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مزید معاونت حاصل ہوسکتی ہے۔
انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ملک بیرونی جھٹکوں، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث بڑھتے ہوئے مالی خسارے پر قابو پا لے گا۔
آئی ایم ایف پہلے ہی ترقی پذیر ممالک کے لیے 50 ارب ڈالر تک کے ہنگامی فنڈ کا اعلان کر چکا ہے، جبکہ ورلڈ بینک نے 25 ارب ڈالر کی معاونت فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

اس وقت بنگلہ دیش 5.5 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف قرض پروگرام کے تحت ہے، جس میں سے تقریباً 1.3 ارب ڈالر جون تک 2 قسطوں میں ملنے کی توقع ہے۔
اسی دوران ورلڈ بینک کی جانب سے 40 کروڑ ڈالر کی اضافی بجٹ سپورٹ بھی متوقع ہے۔
مزید پڑھیں: روسی تیل کی ریفائننگ کے لیے بنگلہ دیش کا بھارت سے معاہدہ متوقع
وزیر خزانہ نے کہا کہ ورلڈ بینک نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، جس میں پالیسی رہنمائی اور مالی معاونت دونوں شامل ہیں، تاکہ بنگلہ دیش پہلے سے موجود مالی خساروں اور مشرقِ وسطیٰ بحران کے اثرات سے نمٹ سکے۔
حکام کے مطابق نئی مالی معاونت معیشت کو مستحکم کرنے اور آئندہ قومی بجٹ کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کرے گی۔














