عالمی سفارتکاری میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار اور دوست ممالک کی جانب سے مالی تعاون کے اعلانات نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئی جان پھونک دی ہے۔ بدھ کے روز کاروبار کے آغاز پر ہی مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھی گئی، جہاں انڈیکس 5,005 پوائنٹس کے غیر معمولی اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 70 ہزار کی تاریخی سطح سے تجاوز کر گیا۔
2 روز میں 10 ہزار پوائنٹس کا سنگ میل
مارکیٹ میں تیزی کا یہ تسلسل دوسرے روز بھی برقرار رہا۔ گزشتہ روز بھی انڈیکس میں 5 ہزار پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس طرح محض 2 کاروباری دنوں میں مجموعی طور پر 10 ہزار پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب کی جانب سے اضافی مالی معاونت کے اعلان کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی
معاشی تجزیہ کار سلمان نقوی کے مطابق اس ریکارڈ ساز تیزی کے پیچھے 2 بڑے عوامل کارفرما ہیں، ایک تو امریکا اور ایران مذاکرات میں پاکستان کا کردار ہے، اس حوالے سے انکا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ پاکستان میں دوبارہ مذاکرات کروانے کے اعلان نے عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
سلمان نقوی کے مطابق دوسری وجہ سعودی مالیاتی پیکیج ہے۔ انکا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کے اسٹیٹ بینک میں 3 ارب ڈالر کے مزید ڈیپازٹس رکھنے کی یقین دہانی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔

اسٹاک ایکسچینج ماہر شہریار بٹ کے مطابق امریکی صدر کے اعلان کے بعد پاکستان ایک بار پھر عالمی سفارتکاری کا محور بن گیا ہے۔ مارکیٹ نے اس مثبت سیاسی تبدیلی اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کا بھرپور خیرمقدم کیا ہے۔
انکا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کی امیدوں نے عالمی منڈیوں پر بھی مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 95 ڈالر فی بیرل کے قریب مستحکم رہی۔ ٹرمپ کے بیان کے بعد کہ ایران نے معاہدے کے لیے وائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا ہے، توانائی کی قیمتوں میں استحکام دیکھنے میں آیا ہے، جو پاکستان جیسے درآمدی ممالک کے لیے بڑی خوشخبری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب کا پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر اضافی معاونت کا اعلان، 5 ارب ڈالر ڈپازٹ کی مدت میں توسیع
اسٹاک مارکیٹ ماہر جبران احمد کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ ساتھ ایشیا کی دیگر بڑی منڈیوں بشمول جاپان میں بھی آج مثبت رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ اگر ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا عمل باقاعدہ شروع ہوتا ہے اور سعودی عرب کی جانب سے فنڈز کی منتقلی جلد مکمل ہو جاتی ہے، تو اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا یہ سفر مزید آگے بڑھ سکتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ فی الحال سرمایہ کاروں کا مورال بلند ہے اور مارکیٹ میں خریداری کا رجحان غالب ہے اور مذاکرات کی کامیابی کے بعد امید کی جا سکتی ہے اسٹاک مارکیٹ نا صرف نفسیاتی حد عبور کرے گی بلکہ نئے ریکارڈ بھی بنائے گی۔














