پاکستان کی محفوظ فضاؤں کے پسِ پردہ ماہرین

بدھ 15 اپریل 2026
author image

عبید الرحمان عباسی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے ایئر ٹریفک کنٹرولرز کو حال ہی میں International Federation of Air Traffic Controllers’ Associations (IFATCA) کی جانب سے سراہا جانا ایک اہم عالمی اعتراف ہے۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کے یہ خاموش پیشہ ور نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔

تاہم یہ صورتحال ایک سوال بھی اٹھاتی ہے کہ جہاں ایک عالمی ادارہ ان کی کارکردگی کو کھلے عام سراہ رہا ہے، وہیں پاکستان کا اپنا ہوا بازی نظام اس حوالے سے خاموش کیوں ہے؟ اس کی وجوہات شاید متعلقہ حکام ہی بہتر جانتے ہوں۔

اپریل 2026 میں جاری ایک خط میں IFATCA نے پاکستانی کنٹرولرز کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے اس حقیقت کو بھی اجاگر کیا کہ پاکستان کی فضائی حدود خطے کی مصروف ترین راہداریوں میں شامل ہوچکی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے باعث متعدد بین الاقوامی پروازوں کا رخ پاکستان کی فضائی حدود کی جانب موڑا گیا، جس سے فضائی ٹریفک میں نمایاں اضافہ ہوا۔

عالمی سطح پر اس وقت تقریباً 31 ممالک میں 50 ہزار کے قریب ایئر ٹریفک کنٹرولرز خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ ماہرین کے مطابق بڑھتی ہوئی فضائی سرگرمیوں کے باعث یہ تعداد مستقبل میں 70 سے 80 ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔ امریکا میں تقریباً 14 ہزار کنٹرولرز Federal Aviation Administration (FAA) کے تحت کام کر رہے ہیں، مگر وہاں بھی یہ تعداد ضروریات کے مقابلے میں ناکافی سمجھی جاتی ہے۔

پاکستان میں اس وقت تقریباً 450 ایئر ٹریفک کنٹرولرز خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اگرچہ انہیں سول ایوی ایشن کے تحت مناسب تنخواہیں اور سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، تاہم ان کے کام کے دباؤ اور ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہرین کا ماننا ہے کہ وہ اس سے کہیں زیادہ کے مستحق ہیں۔

مزید برآں، ذرائع کے مطابق سول ایوی ایشن کے ریگولیٹری شعبے میں کام کرنے والے کنٹرولرز کو پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (PAA) میں تعینات کنٹرولرز کے مقابلے میں زیادہ مراعات دی جاتی ہیں، جسے ایک امتیازی رویہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ایک سینئر ایئر ٹریفک کنٹرولر (SATCO)، جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، کا کہنا تھا کہ ریگولیٹری شعبے میں کام نسبتاً دفتری نوعیت کا ہے، جبکہ آپریشنل ونگ میں کام انتہائی دباؤ اور تناؤ سے بھرپور ہوتا ہے۔ اس کے باوجود ہمیں مساوی معاوضہ نہیں دیا جاتا، جو ناانصافی ہے۔

ایسے مشکل حالات میں، جہاں کئی ممالک کے نظام دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں، پاکستانی ایئر ٹریفک کنٹرولرز نے نہ صرف اس دباؤ کو برداشت کیا بلکہ غیر شیڈول اور ہنگامی پروازوں کو بھی غیر معمولی مہارت سے سنبھالا۔ یہ سب محدود وسائل، طویل ڈیوٹی اوقات اور کم آرام کے باوجود ممکن ہوا، جو ان کی پیشہ ورانہ لگن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ایئر ٹریفک کنٹرولرز کا کام عموماً نظروں سے اوجھل رہتا ہے، مگر ایک معمولی سی غلطی بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی لیے دنیا بھر میں اس پیشے کو انتہائی حساس اور دباؤ سے بھرپور سمجھا جاتا ہے۔ اور پاکستان جیسے جغرافیائی طور پر اہم ملک میں یہ ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔

IFATCA کے مطابق پاکستانی کنٹرولرز نے نہ صرف حفاظتی معیار برقرار رکھا بلکہ آپریشنل کارکردگی میں بھی بہتری لائی۔ مارچ 2026 میں ایک ممکنہ فضائی حادثے کو بروقت کارروائی کے ذریعے ٹال دینا اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔

یہ کامیابیاں اس وقت مزید اہم ہو جاتی ہیں جب انہیں زمینی حقائق کے تناظر میں دیکھا جائے، جہاں ادارہ جاتی مسائل، وسائل کی کمی اور پالیسی خلا موجود ہیں۔ ان تمام رکاوٹوں کے باوجود پاکستانی کنٹرولرز نے ثابت کیا ہے کہ عزم، تربیت اور پیشہ ورانہ دیانت ہر مشکل کو کامیابی میں بدل سکتی ہے۔

حکومتِ پاکستان اور متعلقہ اداروں کے لیے یہ لمحہ فخر کے ساتھ ساتھ سنجیدہ غور و فکر کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر ملنے والی پذیرائی یقیناً اعزاز ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ ان پیشہ ور افراد کو بہتر سہولیات، جدید ٹیکنالوجی اور افرادی قوت فراہم کرنا ناگزیر ہے تاکہ ان کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان کے ایئر ٹریفک کنٹرولرز وہ خاموش ہیروز ہیں جو زمین پر رہتے ہوئے آسمانوں کو محفوظ بناتے ہیں۔ ان کی خدمات نہ صرف قومی بلکہ عالمی سطح پر بھی بے حد اہم ہیں اور IFATCA کی جانب سے ملنے والی یہ پذیرائی ان کے لیے ایک حوصلہ افزا خراجِ تحسین ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سینئر قانون دان کالم نگار اور فری لانس جرنلسٹ ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بھارت کا ممنوعہ ادویات بنانے اور استعمال کرنے والوں میں پہلا نمبر، کھیلوں کی میزبانی خطرے سے دوچار

بشریٰ بی بی کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کرنے کی تصدیق

انڈونیشیا میں ہیلی کاپٹر حادثہ، 8 افراد جاں بحق

شوہر سے جھگڑا، خاتون نے کھڑکی سے ڈالرز کی بارش کر دی، ویڈیو وائرل

لبنان میں جنگ بندی کا خیر مقدم، پاکستان امن کے لیے کردار جاری رکھے گا، شہباز شریف

ویڈیو

ترکیہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں: وزیراعظم شہباز شریف اور حاقان فیدان کی ملاقات، امریکا ایران امن معاہدے کی کوششیں تیز

افغانستان میں کامیاب کارروائی کے بعد پاکستان میں 70 فیصد دہشتگرد کارروائیوں میں کمی ہوئی، صحافیوں کی رائے

واسا لاہور عالمی سطح پر نمایاں، ٹاپ 5 واٹر یوٹیلیٹیز میں شارٹ لسٹ

کالم / تجزیہ

امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟

ہنساتے ببو برال کی اداس کہانی

جب پاکستان ہے تو کیا غم ہے؟