سپریم کورٹ: قتل کے مجرم کی درخواست بریت مسترد،عمر قید برقرار

جمعرات 16 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ نے 11 سالہ اریب اعجاز کے بہیمانہ قتل کیس میں مجرم ذوالفقار خان کی عمر قید کی سزا برقرار رکھتے ہوئے بریت کی اپیل مسترد کر دی، جبکہ سماعت کے دوران عدالت نے شواہد کو مضبوط اور ناقابلِ تردید قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ: گجرات قتل کیس میں سزائے موت عمر قید میں تبدیل

سماعت کے دوران جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ مقتول کمسن بچہ تھا، اس کے ساتھ نہ کوئی دشمنی تھی بلکہ زیادتی کے شواہد بھی موجود ہیں۔ عدالت کے مطابق بچے کی لاش ایک زیرِ تعمیر جگہ سے برآمد ہوئی جس پر تشدد کے واضح نشانات تھے۔

عدالت نے مزید کہا کہ کیس میں سی سی ٹی وی فوٹیج اور ڈی این اے فارنزک رپورٹ جیسے اہم شواہد بھی موجود ہیں جو مجرم کے خلاف جاتے ہیں۔ دورانِ سماعت پوسٹمارٹم رپورٹ پر بھی تفصیلی بحث ہوئی، جس میں جسٹس ملک شہزاد نے وضاحت کی کہ موت کے وقت کا تعین مختلف طبی عوامل جیسے جسم کا درجہ حرارت، خون کا جمنا اور دیگر علامات سے کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمین کے بچوں کو نوکریاں دینے کی پالیسی پر فیصلہ محفوظ کرلیا

مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پوسٹمارٹم رپورٹ میں موت کی واضح وجہ درج نہیں، تاہم عدالت نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ شواہد کا مجموعی جائزہ مجرم کے خلاف ہے۔ سماعت کے دوران عدالت اور وکیل کے درمیان بعض نکات پر دلچسپ مکالمہ بھی ہوا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp