وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور ایران امریکا جنگ کے باعث ملک کو گیس کی فراہمی متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں اس وقت تقریباً 4 ہزار میگاواٹ بجلی کے شارٹ فال کا سامنا ہے، ملک میں جاری لوڈشیڈنگ پر عوام سے معذرت خواہ ہیں، تاہم آج رات سے ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کمی کی جائے گی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہاکہ حکومت عوام کو بجلی کی صورتحال سے مسلسل آگاہ کر رہی ہے اور لوڈشیڈنگ کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات پر وہ عوام سے معذرت خواہ ہیں۔
ایک گھنٹہ پورے پاکستان میں لوڈ شیڈنگ تقریباً 500 میگاواٹ کے شارٹ فال کی وجہ سے ہوتی ہے۔ جب طلب اور پیداوار میں فرق بڑھ جاتا ہے تو اسی حساب سے لوڈ شیڈنگ بڑھتی ہے۔ کل رات بھی طلب ہماری دستیاب پیداواری صلاحیت سے زیادہ تھی۔ انسٹالڈ کیپیسٹی 40 ہزار میگاواٹ ہونے کے باوجود اصل پیداوار… pic.twitter.com/AWNg49tbGh
— WE News (@WENewsPk) April 16, 2026
مزید پڑھیں: مہنگے ایندھن سے بچنے کے لیے روزانہ سوا 2 گھنٹے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا فیصلہ
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ہمیشہ ملک کو اندھیروں سے نکالنے کی کوشش کی ہے۔
اویس لغاری کے مطابق گزشتہ رات سے بجلی کی فراہمی میں بہتری کا سلسلہ شروع ہوا ہے جو آج رات مزید بہتر ہو جائے گا، جس کے نتیجے میں لوڈشیڈنگ میں واضح کمی آئے گی۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت حیدرآباد اور کے الیکٹرک کے علاقوں میں لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی، جبکہ کے الیکٹرک نیشنل گرڈ سے ریکارڈ 2100 میگاواٹ بجلی حاصل کر رہا ہے۔
ان کے مطابق ملک کو اس وقت قریباً 4 ہزار میگاواٹ کے شارٹ فال کا سامنا ہے، جس کی بڑی وجوہات آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث گیس کی عدم دستیابی اور پن بجلی کی پیداوار میں 1600 میگاواٹ کی کمی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ ایل این جی کی فراہمی میں تعطل سے بھی 3 ہزار میگاواٹ سے زائد کی کمی پیدا ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اپریل میں ملک میں بجلی کی طلب 9 ہزار سے بڑھ کر 20 ہزار میگاواٹ تک رہی، اور جب طلب 16 ہزار 500 میگاواٹ سے اوپر جاتی ہے تو لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
اویس لغاری کے مطابق پن بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہونے سے لوڈشیڈنگ مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہے، جبکہ خلیجی صورتحال کے بعد گیس کی کمی نے بھی بجلی کے بحران کو بڑھایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شہری اور دیہی علاقوں میں مساوی بنیادوں پر لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ اس وقت 1400 میگاواٹ بجلی فرنس آئل سے پیدا کی جا رہی ہے اور یہ صورتحال عارضی ہے۔
مزید پڑھیں: سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے بجلی کی پیداوار اور لوڈ شیڈنگ کا پلان طلب کرلیا
ان کے مطابق چند روز قبل لوڈشیڈنگ میں اضافے کا فیصلہ بجلی کی قیمتوں میں استحکام کے لیے کیا گیا تھا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ فرنس آئل کے استعمال سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ میں معمولی اضافہ ہو سکتا ہے جو ایک روپے 30 پیسے فی یونٹ تک جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق بجلی کے بحران کا مکمل حل ایل این جی کی مستقل فراہمی سے مشروط ہے۔














