گوگل ’بیک بٹن ہائی جیکنگ‘ کے خلاف مستعد، ویب سائٹس یہ ہتھکنڈا کیوں استعمال کرتی ہیں؟

بدھ 15 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایسی ویب سائٹس کے خلاف سخت کارروائی کرے گا جو صارفین کو ’بیک بٹن ہائی جیکنگ‘ جیسے حربوں کے ذریعے اپنی سائٹ پر روکنے کی کوشش کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : کیا مصنوعی ذہانت کبھی حقیقی شعور حاصل کر سکتی ہے، جواب جاننے کے لیے گوگل کا اہم اقدام

گوگل کے مطابق بیک بٹن ہائی جیکنگ ایک ایسا طریقہ ہے جس میں ویب سائٹ براؤزر کے بیک بٹن کے عمل میں مداخلت کرتی ہے جس کے باعث صارف پچھلے صفحے پر جانے کے بجائے دوبارہ اسی سائٹ پر رہتا ہے یا اسے غیر ضروری اشتہارات دکھائے جاتے ہیں۔

کمپنی نے اپنے بلاگ میں بتایا کہ اس قسم کے رویے میں حالیہ عرصے میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے باعث اس کے خلاف اقدامات ضروری ہو گئے ہیں۔

گوگل کے مطابق 15 جون سے اس عمل کو نقصان دہ سرگرمی قرار دیا جائے گا اور اس میں ملوث ویب سائٹس کو سرچ نتائج میں نیچے کر دیا جائے گا یا مکمل طور پر ہٹا بھی دیا جا سکتا ہے۔

گوگل کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حربے صارف کے براؤزر کے بنیادی کام میں خلل ڈالتے ہیں، صارف کے متوقع تجربے کو خراب کرتے ہیں اور مایوسی کا باعث بنتے ہیں۔

مزید پڑھیے: واٹس ایپ کا گوگل اور ایپل کو ٹکر دینے کا فیصلہ، صارفین کے لیے نئے پرائیویسی فیچرز متعارف

کمپنی کے مطابق ایسے تجربات کے بعد صارفین نئی یا غیر معروف ویب سائٹس پر جانے سے بھی گریز کرنے لگتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق بھی یہ عمل صارفین کے اعتماد کو متاثر کرتا ہے۔

برطانوی ادارے بی سی ایس (چارٹرڈ انسٹی ٹیوٹ فار آئی ٹی) کے ڈیجیٹل ڈائریکٹر ایڈم تھامسن نے کہا کہ اس طرح کے طریقے ویب کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں اور صارف کے تجربے کو نقصان پہنچاتے ہیں، اس لیے گوگل کا اقدام قابل فہم ہے۔

گوگل نے ویب سائٹ مالکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایسے تمام تکنیکی طریقوں سے گریز کریں جو صارفین کی براؤزر ہسٹری میں مداخلت کرتے ہوں اور اپنی ویب سائٹس کے سسٹمز کا مکمل جائزہ لیں۔

کمپنی نے یہ بھی کہا کہ جن ویب سائٹس کو سزا دی جائے گی وہ مسئلہ حل کرنے کے بعد دوبارہ نظر ثانی کی درخواست دے سکتی ہیں۔

ویب سائٹس ایسا کیوں کرتی ہیں؟

بعض ویب سائٹس ’بیک بٹن میں مداخلت‘ جیسے طریقے استعمال کرتی ہیں تاکہ صارفین کو زیادہ دیر تک اپنی سائٹ پر روکا جا سکے۔ اس عمل کے ذریعے جب صارف واپس جانے کی کوشش کرتا ہے تو اسے دوبارہ اسی ویب سائٹ یا کسی اور صفحے پر لے جایا جاتا ہے جس سے اشتہارات کی تعداد بڑھتی ہے اور ویب سائٹس کو مالی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ اس طریقے سے مصنوعی طور پر ویب ٹریفک اور پیج ویوز میں اضافہ بھی کیا جاتا ہے جس سے سائٹس اپنی مقبولیت زیادہ ظاہر کر سکتی ہیں۔

مزید پڑھیں: جی میل میں تاریخی تبدیلی، گوگل کا نیا فیچر کیا کچھ بدل سکتا ہے؟

ماہرین کے مطابق اس طرح کے حربے صارفین کو گمراہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے براؤزنگ تجربے کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ بعض اوقات صارفین کو غیر ضروری لنکس پر کلک کرنے یا مخصوص مواد دیکھنے پر مجبور کیا جاتا ہے جس سے ان کا وقت ضائع ہوتا ہے اور اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ایک غیر مناسب اور نقصان دہ عمل قرار دیا جا رہا ہے اور اس کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ہاکی ورلڈ کپ: 4 مرتبہ کا عالمی چیمپیئن پاکستان جنوبی افریقہ کو ہرا کر 11ویں پوزیشن لینے میں کامیاب

’آج اقتدار نہیں بلکہ ذمہ داری منتقل ہونے جارہی ہے‘، فیصل ممتاز راٹھور کا بطور وزیراعظم آزاد کشمیر آخری خطاب

دنیا کے کم عمر ترین بادشاہ اویو انتقال کرگئے

بھارت جان لے، پانی ہماری ریڈ لائن ہے، 25 کروڑ پاکستانیوں کی آبی بقا پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، اسحاق ڈار

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی، پیٹرول 58پیسے، ڈیزل 17پیسے سستا

ویڈیو

میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس، مظاہرین پر ایف آئی آر کا تذکرہ

سانحہ پمز، ملزمان سامنے آئے نہ کوئی گرفتاری ہوسکی، سسٹم ٹھیک ہوگا؟ عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو

آزاد کشمیر کے نومنتخب وزیراعظم بیرسٹر افتخار گیلانی کون ہیں؟ کیریئر پر ایک نظر

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ