ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جنگ بندی کے قیام میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے اسے مؤثر اور ذمہ دار قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران خطے میں پائیدار امن کا خواہاں ہے اور اسلامی ممالک کو اتحاد کے ذریعے مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ کرنا چاہیے۔
جمعرات کی شب فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات کے دوران ایرانی صدر نے جنگ بندی کے لیے سہولت کاری میں جنرل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ایرانی وفد کی پرتپاک میزبانی پر بھی شکریہ ادا کیا۔
ایرانی پریس ٹی وی کے مطابق صدر پزشکیان نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران خطے میں پائیدار امن اور استحکام کا خواہاں ہے اور بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے ایرانی عوام کے حقوق کے حصول پر زور دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران تمام اسلامی ممالک کو برادر سمجھتا ہے، جو پیغمبر اسلام ﷺ کے اعلیٰ اخلاق سے ماخوذ ایک بنیادی اصول ہے۔

دفاعی اقدام اور اسلامی اتحاد کی ضرورت
ایرانی صدر نے واضح کیا کہ خلیجی عرب ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا ایران کا اقدام مکمل طور پر دفاعِ خودی کے تحت تھا، جو ملک پر مسلط کردہ جارحیت کے جواب میں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ صہیونی ریاست ہے، جو اسلامی ممالک کے درمیان تقسیم اور تنازعات کو ہوا دیتی رہی ہے۔
صدر پزشکیان نے زور دیا کہ اسلامی دنیا کو باہمی تعاون اور اتحاد کے ذریعے ایسے عناصر کو اسلامی سرزمین کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنے سے روکنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے ایران امریکا مذاکرات کی کامیابی کے لیے پاکستان متحرک، وزیراعظم سعودی عرب اور فیلڈ مارشل ایران پہنچ گئے
ان کا کہنا تھا کہ اگر اسلامی ممالک متحد ہو جائیں تو خطے کو جنگ کی طرف دھکیلنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے امریکا اور صہیونی ریاست کی کارروائیوں کو مجرمانہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان حملوں میں رہنماؤں کی شہادت، اسکولوں اور اسپتالوں کی تباہی اور معصوم شہریوں، خصوصاً بچوں کی ہلاکتیں ہوئیں، جس پر انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ اقدامات کس جواز کے تحت کیے گئے۔

ایران کا مؤقف: عدم استحکام نہیں، برادرانہ تعلقات
صدر پزشکیان نے کہا کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ان کی تمام کوششیں اندرون ملک اور خطے میں دوستی اور بھائی چارے کے فروغ پر مرکوز رہی ہیں، تاہم امریکا اور صہیونی ریاست نے ابتدا ہی سے مخالفانہ اقدامات کیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران خطے میں عدم استحکام نہیں چاہتا بلکہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے۔
انہوں نے پاکستان کی مسلسل اور ذمہ دارانہ سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے دیگر اسلامی ممالک پر بھی زور دیا کہ وہ اسی راستے کو اپنائیں تاکہ امت مسلمہ کے دشمن اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکیں۔
صدر نے کہا کہ ایران بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے عوام کے حقوق کا تحفظ چاہتا ہے اور جنگ کے خاتمے کے بعد علاقائی ممالک کو باہمی تعاون بڑھانا ہوگا تاکہ پائیدار امن کی راہ ہموار کی جا سکے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اسلامی ممالک اپنی سلامتی خود کیوں یقینی نہیں بنا سکتے، جس طرح یورپ نیٹو جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنی سیکیورٹی کا انتظام کرتا ہے، اسی طرح اسلامی ممالک بھی مشترکہ تعاون سے مسائل حل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے پاکستان قابل اعتماد اور غیر جانبدار ثالث، مذاکرات بھی یہیں پر ہوں گے، ایرانی سفیر
انہوں نے خبردار کیا کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں۔ ان کے مطابق اس تنازع میں امریکا کامیاب نہیں ہوگا بلکہ خطے اور دنیا کے دیگر ممالک کو نقصان اٹھانا پڑے گا، جبکہ صرف صہیونی ریاست اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔
ایرانی عوام کے امریکا پر عدم اعتماد کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بار بار وعدہ خلافیوں، مذاکرات کے دوران حملوں اور اہم شخصیات کے قتل نے اس اعتماد کو متاثر کیا ہے، تاہم ایران نے پاکستان جیسے دوست ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات کے تحت مکالمے کا راستہ اختیار کیا ہے اور ساتھ ہی اپنے قومی مفادات کا بھرپور دفاع بھی جاری رکھا ہے۔
انہوں نے جنرل عاصم منیر سے کہا کہ وہ ایرانی قیادت اور عوام کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی قوم کے لیے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچائیں۔
Iran’s President Masoud Pezeshkian meets with Pakistan’s Chief of Army Staff Field Marshal Syed Asim Munir in Tehran.
Follow Press TV on Telegram: https://t.co/LWoNSpkc2J pic.twitter.com/qhzWINq9eV
— Press TV 🔻 (@PressTV) April 16, 2026
فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کا مؤقف
اس موقع پر جنرل عاصم منیر نے ملاقات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی قیادت اور عوام کی میزبانی پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور عوام کی جانب سے آیت اللہ سید علی خامنہ ای، ایرانی کمانڈرز اور شہریوں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ جنگ ختم ہو جائے گی، تاہم خطہ اپنی سابقہ صورتحال میں فوری طور پر واپس نہیں آ سکے گا۔
انہوں نے تعمیر نو، استحکام اور امن کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ چین، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ جیسے ممالک بھی سفارتی عمل کی حمایت کر رہے ہیں۔
جنرل عاصم منیر نے کہا کہ مشکل حالات اور جنگ کے دوران ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے اور حالیہ دورے دوستی کے خلوص کا واضح ثبوت ہیں۔
انہوں نے ایران اور پاکستان کے درمیان گہرے مذہبی، تاریخی اور ثقافتی تعلقات کو بھی اجاگر کیا۔














