پاکستان اور قطر کے درمیان مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے کم از کم 4 کارگوز کی فراہمی کے لیے اعلیٰ سطحی مذاکرات حتمی مراحل میں داخل ہو گئے ہیں، جو ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز کے راستے پاکستان پہنچ سکتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بجلی کی قلت کے باعث پاور ڈویژن نے بجلی کی پیداوار کے لیے یومیہ قریباً 400 ملین مکعب فٹ ایل این جی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے پیٹرولیم ڈویژن کو باضابطہ درخواست دے رکھی ہے۔
گزشتہ ماہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں پاکستان کو ایل این جی کی درآمد میں تعطل کا سامنا کرنا پڑا۔
اسی صورتحال کے باعث قطر نے عالمی سطح پر اپنے ایل این جی معاہدے ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا، جن میں پاکستان کے ساتھ معاہدے بھی شامل ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایندھن اور بجلی کے بحران کے پیش نظر پاور ڈویژن نے فوری بنیادوں پر ایل این جی کارگوز کے حصول کے لیے تمام متعلقہ اداروں سے تعاون طلب کیا، خاص طور پر اس امکان کے بعد کہ پاکستانی پرچم بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں۔
اس سے قبل قطر کے کچھ ایل این جی کارگوز اسی گزرگاہ سے واپس بھی لوٹ گئے تھے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت قطر پیٹرولیم کے قریباً 25 سے 30 کارگوز پروسیسنگ اسٹیشنز اور آبنائے ہرمز کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں، جن میں سے کم از کم 4 پاکستان کو فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
اس مقصد کے لیے دونوں ممالک کی تکنیکی ٹیمیں مسلسل رابطے میں ہیں اور ضرورت پڑنے پر پاکستان اپنی سفارتی کوششیں بھی بروئے کار لانے کے لیے تیار ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گرمیوں میں بجلی کی طلب عموماً 28 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر جاتی ہے، جبکہ اس وقت پیک آورز میں طلب 19 سے 20 ہزار میگاواٹ اور دن کے اوقات میں 9 ہزار میگاواٹ سے کم ہے، جس کی ایک بڑی وجہ شمسی توانائی کا بڑھتا استعمال ہے، تاہم سورج غروب ہونے کے بعد یہی صارفین دوبارہ قومی گرڈ پر انحصار کرتے ہیں۔













