امریکی ریپبلکن سینیٹر جان کینیڈی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پوپ لیو کے خلاف پیدا کی جانے والی کشیدگی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’مذہبی جنگ‘ اور غیر ضروری تنازع قرار دیا ہے۔
انہوں نے فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا احترام کرتے ہیں اور ان کے اچھے ارادوں پر یقین رکھتے ہیں، تاہم وہ پوپ کے ساتھ اس محاذ آرائی سے اتفاق نہیں کرتے۔
یہ بھی پڑھیے: ’دنیا چند ظالموں کے ہاتھوں تباہ ہو رہی ہے‘ ، پوپ لیو کا لہجہ سخت ہونے لگا
جان کینیڈی نے کہا کہ وہ خود کیتھولک نہیں بلکہ میتھوڈسٹ ہیں، اس کے باوجود وہ مذہبی اداروں اور رہنماؤں کے احترام کے حامی ہیں۔ ان کے مطابق پوپ لیو چودہواں کو اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے اور ان کے ساتھ سیاسی سطح پر محاذ آرائی مناسب نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس تنازع کو بڑھانا صرف توجہ ہٹانے کے مترادف ہے اور میڈیا بھی اس معاملے کو غیر ضروری طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے۔
یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور اسرائیل کی صورتحال پر سخت بیانات دیے، جس کے جواب میں پوپ لیو نے ان ریمارکس کو ناقابل قبول قرار دیا اور شہری انفراسٹرکچر پر حملوں کو بین الاقوامی قانون کے خلاف قرار دیا۔ بعد ازاں ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوپ کو خارجہ پالیسی کے حوالے سے کمزور قرار دیتے ہوئے تنقید کی۔
یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ کی کڑی تنقید: جنگ بندی کے مطالبے پر ’پوپ لیو‘ جرائم پسند قرار
اس معاملے پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی رہنماؤں کو مذہبی معاملات تک محدود رہنا چاہیے جبکہ حکومتی پالیسی صدر پر چھوڑ دی جانی چاہیے۔ پوپ لیو نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ براہ راست بحث نہیں کریں گے لیکن انہیں کسی دباؤ کا خوف نہیں ہے۔














