ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کی متوقع 1.8 ٹریلین ڈالر مالیت کی آئی پی او دنیا کی سب سے بڑی اسٹاک مارکیٹ لسٹنگ بن سکتی ہے، تاہم ماہرین نے اس کی بلند قدر، کارپوریٹ گورننس اور مسک کے غیرمعمولی کنٹرول پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
مزید پڑھیں:گوگل اور اسپیس ایکس کے درمیان 30 ارب ڈالر کا تاریخی اے آئی معاہدہ
بعض تجزیہ کاروں کے مطابق پینشن فنڈز اور طویل مدتی سرمایہ کاروں کے لیے اس میں سرمایہ کاری خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ کمپنی کی مستقبل کی قدر کا انحصار ایسے منصوبوں پر ہے جو ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں۔
SpaceX AI Satellites pic.twitter.com/e87XMW2tXb
— Elon Musk (@elonmusk) June 9, 2026
ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی پی او کے بعد بھی ایلون مسک کمپنی پر مضبوط کنٹرول برقرار رکھیں گے، جبکہ اسپیس ایکس کی بلند ترین قیمت اور غیر یقینی کاروباری منصوبے سرمایہ کاروں کے لیے خطرات بڑھا سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: اسپیس ایکس راکٹ کا ناکارہ حصہ چاند کے مدار میں، اگست میں بڑے ٹکراؤ کا امکان
اس کے باوجود سرمایہ کاروں کی جانب سے غیرمعمولی دلچسپی دیکھی جا رہی ہے اور یہ پیشکش مالیاتی منڈیوں کی تاریخ کی سب سے بڑی آئی پی او بننے جا رہی ہے۔














